(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان تحریک انصاف آزاد کشمیر کے نائب صدر سید ذیشان حیدر نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اضافہ غریب عوام پر ایک معاشی بم کے مترادف ہے۔
جاری کردہ ایک پریس ریلیز میں کہا گیا کہ حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 9 روپے 66 پیسے اور ڈیزل کی قیمت میں 11 روپے 66 پیسے فی لیٹر اضافہ کرکے عام شہری کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔
پریس ریلیز کے مطابق:
- پٹرول کی نئی قیمت: 272 روپے 89 پیسے فی لیٹر
- ہائی اسپیڈ ڈیزل: 278 روپے 96 پیسے فی لیٹر
مزید کہا گیا کہ یہ اضافہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ملک میں مجموعی مہنگائی 30 فیصد اور خوراک کی مہنگائی 38 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے۔ اس اقدام سے ٹرانسپورٹ، اشیائے خورونوش، ادویات، دودھ، سبزیاں، آٹا، گھی اور گوشت سمیت بنیادی ضروریات کی قیمتوں میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں 70 فیصد سے زائد ٹرانسپورٹ ڈیزل پر انحصار کرتی ہے، جس کا اثر براہِ راست عام شہری پر پڑتا ہے۔
بیان میں یہ بھی کہا گیا کہدیہاڑی دار مزدور کی آمدن 1000 روپے سے بھی کم ہو چکی ہے جبکہ سفر کے اخراجات 30 سے 40 فیصد بڑھ چکے ہیں۔ساتھ ہی شہروں میں کرایے بڑھنے سے طلبا، مریض اور ملازمین مشکلات کا شکار ہیں۔ مزید یہ کہ دیہی علاقوں میں ڈیزل مہنگا ہونے سے کسانوں پر بوجھ بڑھ گیا ہے، جو زرعی پیداوار پر اثر ڈالے گا۔
پریس ریلیز میں حکومت کو “جعلی، مسلط شدہ اور نااہل” قرار دیتے ہوئے الزام لگایا گیا کہ وہ آئی ایم ایف کے اشاروں پر چل رہی ہے اور عوامی مینڈیٹ سے محروم ہے۔ اس میں مزید کہا گیا کہ پاکستان کے عوام کو صرف آئی ایم ایف کے معاشی ایجنڈے کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے، اور اس تمام صورتحال کا واحد حل صاف، شفاف اور فوری انتخابات ہیں۔
پریس ریلیز میں اعلان کیا گیا کہ پاکستان تحریک انصاف اس فیصلے کے خلاف ہر سیاسی، سماجی اور قانونی فورم پر آواز بلند کرے گی اور جلد ایک ملک گیر احتجاجی تحریک شروع کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: برطانوی حکومت نے پاکستانی ایئر لائنز پر عائد پابندیاں اٹھا لیں
آخر میں خبردار کیا گیا کہ:”اگر یہ فیصلہ واپس نہ لیا گیا تو پی ٹی آئی آزاد کشمیر سڑکوں پر آئے گی، اور یہ احتجاج حکومت کی معاشی دہشتگردی کے خلاف عوام کی اجتماعی آواز ہوگا۔”




