برطانوی حکومت نے پاکستانی ایئر لائنز پر عائد پابندیاں اٹھا لیں

(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستانی ایوی ایشن سیکٹر کے لیے ایک بڑی پیشرفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق برطانیہ نے پاکستانی ایئر لائنز پر عائد سفری پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس فیصلے سے پاکستانی ایئر لائنز کو ایک بار پھر برطانیہ کیلئے پروازوں کی اجازت حاصل کرنے کا موقع ملے گا۔

پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن کی جانب سے جاری بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ پاکستان کا نام برطانیہ کی ایئر سیفٹی لسٹ سے خارج کر دیا گیا ہے۔ اس فہرست سے اخراج کا عمل تکنیکی معیارات اور آزادانہ جائزے کی بنیاد پر مکمل ہوا۔

اب پاکستانی ایئر لائنز برطانیہ کیلئے فلائٹس شروع کرنے کے لیے یوکے سول ایوی ایشن اتھارٹی سے اجازت کی درخواست دے سکتی ہیں۔ برطانوی حکام نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کی جانب سے فضائی حفاظت کے نظام میں خاطر خواہ بہتری لائی گئی ہے، جس کے بعد یہ مثبت قدم اٹھایا گیا۔

برطانیہ میں تعینات برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ نے کہا ہے کہ اگرچہ پروازوں کی بحالی میں کچھ وقت لگ سکتا ہے، لیکن وہ خود بھی جلد ایک پاکستانی ایئر لائن کے ذریعے سفر کرنے کی خواہش مند ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہوں گے اور پاکستانی و برطانوی خاندانوں کو ملنے میں آسانی پیدا ہو گی۔

برطانوی ہائی کمیشن کے مطابق برطانیہ اس وقت پاکستان کا تیسرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے، اور دو طرفہ تجارت کا سالانہ حجم 4.7 ارب پاؤنڈ سے تجاوز کر چکا ہے۔ سفری سہولیات میں بہتری سے یہ تعلق مزید مضبوط ہو گا۔

یہ بھی پڑھیں: لندن آل پارٹیز کشمیر کانفرنس: ریحانہ علی کے چھ نکاتی عالمی مطالبات پیش

یاد رہے کہ 2020ء میں پاکستان میں پائلٹس کے جعلی لائسنسوں کا اسکینڈل سامنے آنے کے بعد برطانیہ اور یورپی ممالک نے پاکستانی ایئر لائنز کی پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ یورپی یونین نے نومبر 2023 میں اپنی پابندی ختم کر دی تھی، اور اب برطانیہ نے بھی اسی طرز پر پاکستانی ایئر لائنز پر عائد بندش ختم کر دی ہے۔

Scroll to Top