نئی دہلی (کشمیر ڈیجیٹل) بھارت کے ایوی ایشن ریگولیٹر ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) نے ملک کی تمام ایئرلائنز کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنے بوئنگ طیاروں کے فیول کنٹرول سوئچز کا فوری معائنہ کریں۔ یہ فیصلہ حالیہ ائیر انڈیا طیارہ حادثے کے بعد کیا گیا ہے جس میں 260 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
ڈی جی سی اے کی جانب سے جاری کردہ ہدایت نامے میں تمام ایئرلائنز کو 21 جولائی تک لازمی چیکنگ مکمل کرنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ طیاروں کی محفوظ پرواز یقینی بنائی جا سکے۔
یہ حکم اس وقت سامنے آیا ہے جب ابتدائی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ حادثے کا شکار بوئنگ 787 ڈریم لائنر طیارے کے انجنوں کو فیول کی سپلائی ٹیک آف کے فوراً بعد کٹ آف ہو گئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی فلائٹ 171 لندن جا رہی تھی اور یہ واقعہ پچھلے ایک عشرے کے بدترین فضائی سانحات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی خدشات اور ردعمل:
حادثے کی ابتدائی رپورٹ سامنے آنے کے بعد بھارت اور دنیا بھر میں مختلف ایوی ایشن اداروں نے فیول سوئچز کی سیفٹی پر تحفظات ظاہر کیے ہیں۔
حالانکہ امریکی فیڈرل ایوی ایشن ایڈمنسٹریشن (FAA) نے حال ہی میں وضاحت کی ہے کہ بوئنگ کے فیول کنٹرول سوئچز محفوظ ہیں، لیکن اس کے باوجود ڈی جی سی اے نے احتیاطی اقدامات کرتے ہوئے معائنے کا حکم دیا ہے۔
2018 کی FAA ایڈوائزری:
تحقیقات میں یہ بھی انکشاف ہوا کہ 2018 میں ایف اے اے کی طرف سے ایک ایڈوائزری جاری کی گئی تھی جس میں طیارہ ساز اداروں کو تجویز دی گئی تھی کہ وہ فیول کٹ آف سوئچز کا معائنہ کریں تاکہ یہ سوئچز حادثاتی طور پر حرکت نہ کریں۔
تاہم چونکہ یہ ایڈوائزری لازمی نہیں تھی، اس لیے ائیر انڈیا نے معائنہ نہیں کیا تھا۔
پائلٹس کی حمایت:
ادھر حادثے میں ملوث عملے کے حق میں آواز بلند کرتے ہوئے انڈین کمرشل پائلٹس ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ “پائلٹس نے مشکل حالات میں تربیت کے مطابق ردعمل دیا، ان پر قیاس آرائیوں کی بنیاد پر الزام نہیں لگایا جا سکتا۔”
رپورٹ کے مطابق کاک پٹ وائس ریکارڈنگ میں ایک پائلٹ کو یہ کہتے سنا گیا کہ “تم نے کیوں کٹ آف کیا؟” جس پر دوسرے پائلٹ نے کہا “میں نے نہیں کیا”۔
ابتدائی رپورٹ کا مقصد:
ائیرکرافٹ ایکسیڈنٹ انویسٹی گیشن برانچ (AAIB) کی جاری کردہ ابتدائی رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ اس کا مقصد کسی پر الزام یا ذمہ داری عائد کرنا نہیں بلکہ صرف حقائق کی وضاحت ہے۔
جنوبی کوریا بھی الرٹ:
ادھر رائٹرز کے مطابق جنوبی کوریا بھی اپنے ملک کی ایئرلائنز کو ہدایت دینے کی تیاری میں ہے تاکہ وہ بوئنگ طیاروں کے فیول سوئچز کا معائنہ کریں۔





