اسلام آباد: آزادکشمیر کے سابق صدر اورسینئر سفارتکارسردار مسعود خان نے کہا ہے کہ حل طلب دیرینہ تنازعہ کشمیر کو پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نمایاں مقام حاصل ہے ۔
کشمیر میڈیا سروس کے مطابق سردار مسعود خان نے ایک انٹرویو میں پاکستان کی خارجہ پالیسی اور مسئلہ کشمیر کے حل حوالے سے پاکستان کی کوششوں کے بارے میں تفصیل سے اظہار خیال کیا۔
انہوں نے کہاکہ تنازعہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا اہم حصہ ہے اور اگست2019میں مودی حکومت کی طرف سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی منسوخی کے بعد سے عالمی سطح پر اس مسئلہ پر توجہ میں اتار چڑھا آیا ہے۔
تنازعہ کشمیر کے حل کیلئے سردار مسعود خان نے بھارت کی دوطرفہ مذاکرات کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتا ہے لیکن پاکستان کو اس کی سازش کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈی جی آئی ایس پی آر کے دورہ مظفرآبادپرکشمیری عوام کاپاک فوج سے والہانہ محبت کااظہار
سردار مسعود نے کہاکہ دنیا بھارت کی دوغلی پالیسی سے بخوبی آگاہ ہے اورپاکستان کو اپنی بھرپور سفارتی کوششوں سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
انہوں نے واضح کیاکہ کشمیری عوام کی خواہشات کے بغیر تنازعہ کشمیر کاکوئی بھی حل پائیدار ثابت نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے پاکستان کی سفارتی کامیابیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ چین اور روس کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے بعد پاکستان کی عالمی سطح پر حیثیت میں اضافہ ہوا ہے۔
سردار مسعود نے کہاکہ پاکستان کواپنی سفارتکاری کوتیزی سے تبدیل ہوتی عالمی صورتحال کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور اپنی خارجہ پالیسی کو صرف قومی مفادات کے تناظر میں وضع کرنا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو اپنی سفارتی حکمت عملی میں نیا جذبہ پیدا کرنا ہوگا اور عالمی سطح پر اپنے مفادات کو آگے بڑھانے کیلئے موثر اقدامات کرنا ہوں گے۔




