اقوام متحدہ سلامتی کونسل کی صدارت پاکستان کو مل گئی

اسلام آباد: پاکستان نے جولائی 2025 کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) کی روٹیٹنگ صدارت سنبھال لی ہے۔ اس پیش رفت کی تصدیق وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر اپنے پیغام میں کی۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آج پاکستان سلامتی کونسل کی صدارت سنبھال رہا ہے، جو کہ اقوام متحدہ کی اس اہم ترین باڈی میں ہماری آٹھویں مدت (2025-26) کے دوران ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان یہ ذمہ داری عاجزی، عزم اور اقوام متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون اور کثیرالجہتی اصولوں کے ساتھ نبھائے گا۔

اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ پاکستان ایسے وقت میں صدارت سنبھال رہا ہے جب دنیا بھر میں تنازعات اور انسانی بحران بڑھ رہے ہیں اورہم سلامتی کونسل کو بامعنی اور مؤثر فیصلوں کی جانب لے جانے کی کوشش کریں گے، جو مکالمے، سفارتکاری اور پرامن تنازع حل پر مبنی ہوں۔

یاد رہے کہ پاکستان نے جنوری 2025 میں دو سالہ (2025-26) مدت کے لیے 15 رکنی سلامتی کونسل میں بطور غیر مستقل رکن اپنا آٹھواں دور شروع کیا تھا۔ سلامتی کونسل میں پانچ مستقل ارکان ،برطانیہ، چین، فرانس، روس اور امریکہ ، جبکہ 10 غیر مستقل ارکان جغرافیائی تقسیم کی بنیاد پر منتخب ہوتے ہیں۔

مزید برآں، پاکستان کے اقوام متحدہ میں مستقل مندوب، سفیر کامران اختر کو اقوام متحدہ کے صنعتی ترقیاتی بورڈ (UNIDO) کے 53ویں اجلاس کا صدر منتخب کیا گیا ہے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کو اس اہم عالمی ادارے میں یہ منصب حاصل ہوا ہے۔

 

دفتر خارجہ کے مطابقUNIDO کے ڈائریکٹر جنرل نے سفیر کامران اختر کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی اور پاکستان کے کردار اور وابستگی کو سراہا۔”

سفیر کامران اختر نے تمام رکن ممالک کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ صنعتی ترقی، خصوصاً ترقی پذیر ممالک، کم ترقی یافتہ ممالک (LDCs) اور چھوٹے جزیراتی ترقی پذیر ریاستوں (SIDS) میں تنظیم کے کردار کو مزید مؤثر بنانے کے لیے کام کریں گے۔

دفتر خارجہ نے مزید کہا کہ پاکستان UNIDO کے ویانا میں موجود دیگر عالمی اداروں میں سرگرم سفارتی کردار ادا کرتا ہے اور تنظیم کے بنیادی مقصد جامع اور پائیدار صنعتی ترقی کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستان کا UNIDO کے ساتھ 350 ملین یورو سے زائد مالیت کا بڑا پروجیکٹ پورٹ فولیو ہے، جس میں جاری اور منصوبہ بند منصوبے شامل ہیں۔ ان میں ٹیکسٹائل، چمڑا، فشریز، فوڈ سیفٹی، موسمیاتی تبدیلی اور قابلِ تجدید توانائی کے شعبوں میں کام جاری ہے، جبکہ PAIDAR اور PAFAID جیسے منصوبوں نے غربت کے خاتمے، روزگار کی فراہمی اور دیہی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

Scroll to Top