بجلی سستی ہونے کا امکان: یکم جولائی سے نرخوں میں کمی کی تجویز

اسلام آباد :وفاقی حکومت نے ملک بھر میں بجلی کی قیمتوں میں 1.15 روپے فی یونٹ کمی کی تجویز دی ہے، جس کا اطلاق یکم جولائی 2025 سے متوقع ہے۔ اس حوالے سے پاور ڈویژن نے نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں باضابطہ درخواست جمع کروا دی ہے، جبکہ نیپرا نے 1 جولائی کو عوامی سماعت طلب کر لی ہے تاکہ مجوزہ نرخوں پر ضابطے کی کارروائی مکمل کی جا سکے۔

درخواست کے مطابق، یہ کمی لائف لائن گھریلو صارفین کے علاوہ تمام صارفین پر لاگو ہو گی۔ پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ ابتدائی دو لائف لائن سلیبز کے نرخوں میں کوئی تبدیلی نہ کی جائے کیونکہ ان صارفین کو پہلے ہی بھاری سبسڈی دی جا رہی ہے۔

درخواست میں واضح کیا گیا ہے کہ وہ گھریلو صارفین جو ماہانہ 50 یونٹس تک بجلی استعمال کرتے ہیں، ان کے لیے نرخ 3.95 روپے فی یونٹ برقرار رہیں گے۔ 50 سے 100 یونٹس استعمال کرنے والے صارفین کے لیے نرخ 7.74 روپے فی یونٹ ہوں گے۔

اسی طرح، 1 سے 100 یونٹس استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے فی یونٹ نرخ 11.69 روپے سے کم ہو کر 10.54 روپے کر دیے جائیں گے، جو 9.8 فیصد کمی بنتی ہے۔ 101 سے 200 یونٹس بجلی استعمال کرنے والے پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے نرخ 14.16 روپے سے کم ہو کر 13.01 روپے فی یونٹ تجویز کیے گئے ہیں، یعنی 8 فیصد کمی۔ 200 یونٹس سے زیادہ استعمال کرنے والے نان پروٹیکٹڈ صارفین کے لیے ابتدائی 100 یونٹس کا نرخ 23.59 روپے سے کم ہو کر 23.44 روپے فی یونٹ مقرر کرنے کی تجویز ہے، جو لگ بھگ 5 فیصد کمی بنتی ہے۔

کمرشل، صنعتی، زرعی اور بلک صارفین کے لیے بھی 1.15 روپے فی یونٹ کمی کی تجویز دی گئی ہے۔ ان کیٹیگریز میں مجموعی طور پر 3 سے 4 فیصد کمی کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ موجودہ اوسط نرخ 32.75 روپے فی یونٹ ہے، جو مجوزہ کمی کے بعد کم ہو کر 31.60 روپے فی یونٹ ہو جائے گا۔ یہ مجوزہ نرخ نیپرا کی جانب سے مالی سال 2025-26 کے لیے مقرر کیے گئے مجموعی ریونیو، بجلی کی خریداری کی اوسط قیمت اور سبسڈی میں کمی کی بنیاد پر طے کیے گئے ہیں۔ نیپرا نے آئندہ مالی سال کے لیے قومی اوسط نرخ 34 روپے فی یونٹ تجویز کیا ہے، جو رواں مالی سال کے 35.50 روپے فی یونٹ سے کم ہے۔

وفاقی بجٹ میں سبسڈی کی مد میں مجموعی طور پر 12.9 فیصد کمی کی گئی ہے، جو 1.19 کھرب روپے سے کم ہو کر 1.04 کھرب روپے رہ گئی ہے۔ انٹر-ڈسکو ٹیرف فرق (TDS) کے لیے سبسڈی 276 ارب روپے سے کم ہو کر 249.14 ارب روپے، جبکہ قبائلی علاقوں کے لیے سبسڈی 65 ارب سے کم کر کے 40 ارب روپے مقرر کی گئی ہے، جو 39 فیصد کمی ظاہر کرتی ہے۔ البتہ پاکستان انرجی ریزالوِنگ فنڈ کے لیے سبسڈی 48 ارب روپے برقرار رکھی گئی ہے۔ مجموعی طور پر 2025-26 کے لیے بجلی کی سبسڈی 400 ارب روپے مقرر کی گئی ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں معمولی اضافہ ہے۔

پاور ڈویژن کے مطابق یہ اقدام نیشنل الیکٹریسٹی پالیسی 2021 کی شق 5.6.1 کے تحت تجویز کیا گیا ہے، جس کے مطابق بجلی کے شعبے کی مالیاتی پائیداری اس امر پر منحصر ہے کہ صارفین سے مؤثر ٹیرف اسٹرکچر کے ذریعے مکمل لاگت وصول کی جائے۔

یہ بھی پڑھیں: ملک بھر میں شدید مون سون بارشوں کا الرٹ، این ڈی ایم اے کی وارننگ

واضح رہے کہ پاور ڈویژن نے 28 جون کو کابینہ میں یونیفارم ٹیرف بھی جمع کروا دیا ہے، جس کی منظوری بغیر کسی تبدیلی کے متوقع ہے۔ حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ کے الیکٹرک اور دیگر تقسیم کار کمپنیوں کی ممکنہ نجکاری کے باوجود صارفین کے لیے یکساں نرخ برقرار رکھے جائیں گے، چاہے سبسڈی براہ راست دی جائے یا بالواسطہ۔ نیپرا اس حوالے سے کے الیکٹرک کے لیے بھی ویری ایبل چارج کا تعین تجویز کردہ سبسڈی اور ریونیو تقاضوں کو مدنظر رکھ کر کرے گا۔

Scroll to Top