ملک بھر میں شدید مون سون بارشوں کا الرٹ، این ڈی ایم اے کی وارننگ

نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے 30 جون سے 5 جولائی تک ملک بھر میں شدید مون سون بارشوں سے متعلق اہم الرٹ جاری کیا ہے۔ ادارے کے مطابق ان بارشوں کے نتیجے میں مختلف علاقوں میں ممکنہ سیلاب، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ جیسے خطرات موجود ہیں جن کے پیشِ نظر عوام کو احتیاط برتنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

این ڈی ایم اے کے مطابق بارشوں سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں میں شمالی خطے کے علاقے کشمیر، گلگت بلتستان، اسلام آباد، پوٹھوہار، مری، گلیات، مانسہرہ، ہری پور اور ایبٹ آباد شامل ہیں۔ ان علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ اور ندی نالوں میں طغیانی کا خاص خطرہ ظاہر کیا گیا ہے۔

پنجاب کے مختلف شہر بھی اس شدید موسمی صورتحال سے متاثر ہو سکتے ہیں، جن میں راولپنڈی، اٹک، چکوال، جہلم، گجرات، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، نارووال، لاہور، فیصل آباد، سرگودھا، شیخوپورہ اور قصور شامل ہیں۔ ان علاقوں کے نشیبی حصوں میں اربن فلڈنگ کا خدشہ ہے۔

خیبرپختونخوا کے مختلف شہروں جیسے پشاور، چارسدہ، نوشہرہ، کوہاٹ، چترال، سوات، ڈی آئی خان، مردان اور بنوں میں بھی بارشوں کے باعث ندی نالوں میں طغیانی، اربن فلڈنگ اور دیگر ہنگامی صورتحال پیدا ہونے کا امکان ہے۔

ادھر سندھ کے ساحلی اور جنوبی علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ حیدرآباد، بدین اور ٹھٹھہ میں موسلادھار بارشوں کے باعث اربن فلڈنگ کا خطرہ موجود ہے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں نکاسیٔ آب کا نظام کمزور ہےتاہم کراچی میں داخل ہونے والا مون سون سسٹم کمزور پڑ گیا ہے۔

این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بارشوں کے نتیجے میں کمزور عمارتیں، کچی دیواریں، بجلی کے کھمبے اور بل بورڈز گرنے کے واقعات پیش آ سکتے ہیں۔ طوفانی ہواؤں کے باعث حد نگاہ میں کمی اور ٹریفک حادثات کا بھی خدشہ ہے۔

یہ بھی پڑھیں: شدید بارشوں کے باعث مختلف حادثات، 3 روز میں 50 سے زائد افرادجاں بحق

ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ندی نالوں کو عبور کرنے سے گریز کریں، کمزور انفراسٹرکچر سے دور رہیں اور خاص طور پر سیاح موسم کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سفر کا فیصلہ کریں۔ عوام کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ مقامی انتظامیہ اور محکمہ موسمیات کی ہدایات پر عمل کریں تاکہ کسی بھی ناگہانی صورت حال سے محفوظ رہ سکیں۔

Scroll to Top