ڈونلڈ ٹرمپ

صدر ٹرمپ کی دیرینہ خواہش حقیقت کے قریب؟ نوبیل امن انعام 2026 کے لیے باضابطہ نامزدگی

واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو نوبیل امن انعام 2026 کے لیے باضابطہ طور پر نامزد کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق یہ نامزدگی ریپبلکن رکنِ کانگریس بڈی کارٹر کی جانب سے کی گئی ہے، جنہوں نے اس حوالے سے ناروے کی نوبیل کمیٹی کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے۔

بڈی کارٹر نے اپنے خط میں لکھا کہ دنیا میں دہشتگردی کے سب سے بڑے ریاستی معاون کو مہلک ہتھیاروں کے حصول سے روکنے اور اسرائیل و ایران کے درمیان جاری مسلح تنازع کو ختم کرانے میں صدر ٹرمپ نے غیرمعمولی اور تاریخی کردار ادا کیا ہے، جس پر انہیں نوبیل امن انعام دیا جانا چاہیے۔

 ٹروتھ سوشل پرایران اسرائیل جنگ بندی کا اعلان:

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ٹروتھ سوشل” پر اعلان کیا تھا کہ اسرائیل اور ایران جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں۔ ان کے اس اعلان کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں واضح کمی دیکھی گئی ہے اور عالمی سطح پر اسے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان کی حمایت اور ماضی کا کردار:

اس سے قبل پاکستانی حکومت بھی امریکی صدر ٹرمپ کی حمایت میں نوبیل انعام کی سفارش کر چکی ہے۔ پاکستان کی جانب سے نوبیل کمیٹی کو لکھے گئے خط میں کہا گیا تھا کہ صدر ٹرمپ کی بروقت اور فیصلہ کن سفارتی مداخلت کے باعث پاکستان اور بھارت کے درمیان ممکنہ جنگ کا خطرہ ٹل گیا، جس سے خطے میں امن کے امکانات کو تقویت ملی۔ یہ سفارش حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے پس منظر میں کی گئی جس دوران صدر ٹرمپ نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرانے کے لیے براہ راست کردار ادا کیا۔

ٹرمپ کا ردعمل اور مایوسی کا اظہار:

صدر ٹرمپ نے نوبیل انعام کے لیے اپنی نامزدگی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ”پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بند کرانے پر مجھے نوبیل پرائز ملنا چاہیے مگر نوبیل پرائز صرف لبرلز کو ملتا ہے یہ لوگ مجھے نہیں دیں گے۔”

یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت کا آزاد کشمیر کے صحافیوں اور پریس کلبز کے لیےخصوصی فنڈز مختص کرنے کا اعلان

یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں بھی امن کوششوں، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں ابراہام معاہدوں کے دوران نوبیل انعام کے لیے نامزد کیے جا چکے ہیں، تاہم انہیں یہ اعزاز اب تک حاصل نہیں ہو سکا۔

Scroll to Top