مظفرآباد/جہلم ویلی : پی ڈبلیو ڈی ورکرز یونین کا احتجاج چھٹے روز بھی مظفرآباد اور ضلع جہلم ویلی میں جاری ہے، جہاں ملازمین نے اپ گریڈیشن، مستقل ملازمت، رسک الاؤنس اور دیگر چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کا مطالبہ دہرایا ہے۔
مظاہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو وہ عید کے روز بھی سڑکوں پر دھرنا جاری رکھیں گے اور ایمرجنسی سروسز کا مکمل بائیکاٹ کریں گے۔
یونین نمائندگان کا کہنا ہے کہ آج مرکزی صدر افتخار صاحب مظفرآباد کے کیمپ میں آئے اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تبادلہ خیال کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارا احتجاج پُرامن ہے اور ہمارا مطالبہ صرف اپ گریڈیشن، دس سال سے زائد عرصے سے کام کرنے والے ملازمین کو مستقل کرنا، اور رسک الاؤنس کی فراہمی ہے۔ “ہم پورے آزاد کشمیر کا بجٹ نہیں مانگ رہے، صرف ہمارا تسلیم شدہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل کیا جائے،” کارکنان نے کہا۔
مظاہرین کا مزید کہنا تھا کہ 1 سے 7 گریڈ تک کے ملازمین کی اپ گریڈیشن تاحال نہیں کی گئی، جبکہ دیگر محکموں میں یہ عمل مکمل ہو چکا ہے۔ “ہمیں یقین دلایا گیا تھا کہ 30 تاریخ تک ہماری سفارشات سنی جائیں گی اور بجٹ میں شامل کی جائیں گی، لیکن تاحال حکومت کی جانب سے کوئی عملی پیش رفت نہیں ہوئی۔”
پی ڈبلیو ڈی ملازمین نے حکومت سے شکوہ کیا کہ گزشتہ 70 سالوں سے محکمہ شاہرات کے کارکنان کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ نہ انہیں ڈینجر الاؤنس دیا جاتا ہے، نہ ہی کسی حادثے کی صورت میں مالی امداد، اور نہ ہی ہارڈ الاؤنس کی سہولت موجود ہے۔
کارکنان کا کہنا تھا کہ “ہمیں سڑکوں پر دھرنے دینے کا کوئی شوق نہیں، لیکن اگر بات نہ سنی گئی تو ہم مجبوراً ایمرجنسی سروسز بند کر دیں گے اور عید کے دن بھی سڑکوں پر ہوں گے، جب عوام قربانی کر رہے ہوں گے تو ہمارا مزدور اپنے حق کے لیے احتجاج کر رہا ہو گا۔”
یہ بھی پڑھیں: آپریشن سندور میں بھارتی فوج کا 15 فیصد وقت جعلی خبروں اور پروپیگنڈے میں ضائع، جنرل انیل چوہان کا اعتراف
مظفرآباد اور جہلم ویلی دونوں مقامات پر دھرنے جاری ہیں اور مظاہرین نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے سنجیدگی نہ دکھائی تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔




