کینیڈا میں سکھ تنظیموں نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی کو جی 7 اجلاس میں شرکت کی دعوت نہ دی جائے۔
کینیڈا میں سرگرم سکھ تنظیموں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو آئندہ جی 7 اجلاس میں شرکت کی دعوت نہ دی جائے۔ سکھ برادری کا مؤقف ہے کہ جب تک بھارت کینیڈا میں جاری مجرمانہ تحقیقات میں تعاون نہیں کرتا اُسے عالمی سطح کے اجلاس میں شامل نہ کیا جائے۔
سی بی سی نیوز کے مطابق کینیڈا اس سال جی 7 ممالک کے رہنماؤں کی میزبانی کر رہا ہےجن میں فرانس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی، جاپان، امریکا اور یورپی کمیشن کے صدور شامل ہوں گے۔
ٹورنٹو کی سکھ فیڈریشن کا کہنا ہے کہ نریندر مودی کو مدعو کرنا درست فیصلہ نہیں ہوگا، کیونکہ بھارتی حکومت پر کینیڈا میں قتل کے ایک سنگین مقدمے میں ملوث ہونے کا الزام ہے۔ کینیڈین حکومت پہلے ہی خالصتان تحریک کے حامی ہر دیب سنگھ نجر کے قتل کا الزام بھارت کی خفیہ ایجنسی “را” پر عائد کر چکی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی فون 15 اور 16 آسان اقساط کا شیڈول جاری ، ماہانہ صرف 14,000 روپے سے آغاز
سکھ تنظیموں نے زور دیا کہ انسانی حقوق کو اقتصادی مفادات پر ترجیح دی جائے۔ یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب کینیڈین وزیر خارجہ انیتا آنند نے حال ہی میں اپنے بھارتی ہم منصب سے ملاقات میں اقتصادی تعاون بڑھانے پر گفتگو کی تھی۔




