وادی لیپا(کشمیر ڈیجیٹل)مقامی محقق ملک ماہ رخ شبیر نے اپنی MPhil تحقیق میں لیپا ویلی کے نایاب سرخ چاولوں کو پہلی بار آزاد کشمیر میں سائنسی اور سماجی زاویے سے اجاگر کر کے قابلِ قدر کارنامہ سرانجام دیا ہے۔
اس ریسرچ میں نہ صرف سرخ چاولوں کی اگرو-مارفک (زرعی و حیاتیاتی) خصوصیات کو سائنسی انداز میں جانچا گیا بلکہ سوشیو اکنامک (معاشرتی و معاشی) پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔
ملک ماہ رخ شبیر کی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سرخ چاول نہ صرف غذائیت سے بھرپور ہے بلکہ یہ مقامی کسانوں کی آمدن، خواتین کی عملی شمولیت، اور ثقافتی ورثے کا بھی اہم حصہ ہے۔
تحقیق میں سرخ چاولوں کی ویلیو ایڈیشن پر زور دیا گیا تاکہ اس کی مارکیٹ ویلیو میں اضافہ ہو اور چھوٹے کسانوں کو بھی مالی فائدہ پہنچے۔
سرخ چاولوں کی کاشت میں خواتین کا کلیدی کردار تحقیق کا ایک نمایاں پہلو ہے۔
محققہ ماہ رخ شبیر کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک فصل نہیں، بلکہ ہماری زمین، روایت، اور محنت کا مشترکہ عکس ہے۔ اس کی سائنسی دستاویز بندی ضروری ہے تاکہ یہ ورثہ اگلی نسلوں تک محفوظ رہے۔
یہ تحقیق مستقبل میں پائیدار زرعی حکمت عملیوں، مقامی اجناس کے تحفظ، اور فوڈ سکیورٹی کے حوالے سے پالیسی ساز اداروں کیلئے ایک اہم حوالہ بن سکتی ہے۔
یہ تحقیق اس بات کی علامت ہے کہ اگر نوجوان سائنسدان اپنی مٹی سے جڑے موضوعات پر کام کریں تو وہ عالمی سطح پر بھی قابلِ قدر تحقیق پیش کر سکتے ہیں۔
جنت نظیر وادی کشمیر کی ایسی آبشار جو سیاحوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتی ہے




