کینسر کے خلاف بڑی پیشرفت: نئی دوا سے مریضوں کی بقا کی مدت دوگنی

لندن: جدید تحقیق کے مطابق ایک نئی امیونوتھراپی دوا نے ایڈوانسڈ ہیڈ اینڈ نیک کینسر کے مریضوں کی بقا کی مدت دوگنی کر دی ہے، جسے ماہرین کینسر کے علاج میں بیس سال بعد پہلی بڑی پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔

بی بی سی کی ایک رپورٹ کے مطابق کلینیکل ٹرائل کے نتائج کے تحت لاکھوں ایسے مریض جو سر اور گردن کے پیچیدہ کینسر میں مبتلا ہیں اب بغیر مرض کے لوٹے طویل عرصہ تک زندہ رہ سکتے ہیں۔ یہ دوا سرجری سے پہلے اور بعد میں دی گئی، جس سے جسم کو یہ سیکھنے میں مدد ملی کہ اگر کینسر واپس آئے تو کیسے اس پر حملہ کرنا ہے۔

ڈربی شائر کی 45 سالہ لورا مارسٹن، جنہیں چھ سال قبل زبان کے ایڈوانسڈ کینسر کی تشخیص ہوئی تھی، کہتی ہیں کہ وہ “حیران ہیں کہ وہ اب تک زندہ ہیں”، کیونکہ ڈاکٹروں نے ان کی زندگی کے امکانات کو انتہائی کم قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑھیں: ملک کے بالائی علاقوں میں بارش اور برفباری کا سلسلہ جاری، موسم خوشگوار

ماہرین کے مطابق یہ امیونوتھراپی ان مریضوں کے لیے امید کی نئی کرن ہے جو اس موذی مرض کے خلاف روایتی علاج سے خاطر خواہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔

Scroll to Top