آزاد کشمیر کا بجٹ عوامی امنگوں کا آئینہ ہونا چاہیے، ماہرین کا مظفرآباد میں پری بجٹ سیمینار سے خطاب

مظفرآباد : آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی (UAJK) اور بزنس فورم آف اے جے کے و گلگت بلتستان کے اشتراک سے ہونے والے پری بجٹ سیمینار میں ماہرین نے بجٹ سازی کے عمل میں اعدادوشمار سے بڑھ کر عملی حل پر توجہ دینے پر زور دیا تاکہ عام شہریوں کی زندگیوں میں حقیقی بہتری لائی جا سکے۔

یہ سیمینار یونیورسٹی کے سٹی کیمپس میں منعقد ہوا جس میں ماہرین معیشت، کاروباری شخصیات، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور صحافیوں نے شرکت کی۔ مقررین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بجٹ عوام کی حقیقی ضروریات کی ترجمانی کرے اور عام لوگوں کی آمدنی و معیارِ زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ بنے۔

وائس چانسلر یو اے جے کے پروفیسر ڈاکٹر ندیم حیدر بخاری نے صدارتی خطاب میں کہا کہ قومی بجٹ محض مالیاتی دستاویز نہیں بلکہ عوامی امنگوں کا آئینہ ہونا چاہیے۔ انہوں نے پری بجٹ سیمینار کے انعقاد پر بزنس فورم کا شکریہ ادا کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ عوامی جامعات کی تجاویز کو 2025-26 کے بجٹ میں شامل کیا جائے۔ ساتھ ہی اعلیٰ تعلیم کے لیے منصفانہ فنڈنگ کو بھی وقت کی ضرورت قرار دیا۔

بزنس فورم اے جے کے و جی بی کے صدر سردار عمران عزیز نے بتایا کہ فورم تمام اضلاع میں اس نوعیت کے سیمینارز منعقد کر رہا ہے تاکہ ہر طبقے کی رائے کو بجٹ سازی کا حصہ بنایا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ “حقیقی تبدیلی وہی بجٹ لا سکتا ہے جو تمام شعبوں کی مشاورت سے تیار ہو۔”

وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے اقوام متحدہ پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) سیدہ اسماء اندرابی نے یونیسف کے ساتھ 600 ملین ڈالر کے مشترکہ منصوبے کی تفصیلات شیئر کیں، جو استعدادِ کار میں اضافے اور ڈیجیٹل گورننس کے لیے ہے۔ انہوں نے وفاقی فنڈز پر انحصار کم کرنے اور مقامی سطح پر فوڈ سیکیورٹی، ماحولیاتی تبدیلی اور ویسٹ مینجمنٹ جیسے مسائل کے حل پر زور دیا۔ ساتھ ہی جامعات سے کہا کہ وہ سرکاری اداروں کو SDGs اہداف کے حصول کے لیے تربیت فراہم کریں۔

سابق سیکریٹری حکومت خواجہ احسن نے سیمینار میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ سازی میں عوامی شمولیت شفافیت اور مؤثر نتائج کے لیے ناگزیر ہے۔

کشمیر انسٹیٹیوٹ آف اکانومی، یو اے جے کے کی ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر ثمینہ صابر نے بجٹ میں ڈیجیٹائزیشن و آٹومیشن کے لیے فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی تاکہ شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے درست اور قابلِ اعتبار ڈیٹا کی کمی کو موثر بجٹ سازی میں رکاوٹ قرار دیا۔

یہ بھی بڑھیں: لیپہ کے عوام کی آواز: ہم اپنے وطن کی حفاظت کے لیے ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں

دیگر مقررین، بشمول ڈاکٹر واجد عزیز لون اور ڈاکٹر عتیق الرحمن، نے کہا کہ بجٹ عوام کی زندگی پر براہِ راست اثرانداز ہوتا ہے، لہٰذا اس عمل میں ان کی شمولیت لازم ہے۔

سیمینار میں شریک دیگر افراد نے دیہی ترقی، نوجوانوں کو ہنر مند بنانے، ماحولیاتی تحفظ، مقامی جڑی بوٹیوں اور معدنیات کے استعمال، سیاحتی این او سی کے عمل کو آسان بنانے اور زراعت و شہد کی صنعت کو فروغ دینے کی تجاویز پیش کیں۔

تمام مقررین کا اس بات پر اتفاق تھا کہ بجٹ سازی کو عوام دوست، قابلِ عمل اور ہمہ گیر بنائے بغیر خطے کو معاشی خود کفالت کی راہ پر گامزن نہیں کیا جا سکتا۔

Scroll to Top