کنٹرول لائن پر پاکستانی فوج کا عزم، نیلم میں سیاحت کی آزادی اور کھیلوں کا جوش

وادی نیلم میں جہاں بھارتی دھمکیوں کا کوئی اثر نہیں پڑا، وہاں پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر مقامی نوجوان کھیلوں کی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ کنٹرول لائن کے قریب واقع اس علاقے میں زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہے، اور سیاحوں کی آمدورفت بھی بلا رکاوٹ جاری ہے۔

مقامی شہریوں نے کشمیرڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم بھارت کی دھمکیوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ ہم گزشتہ کئی برسوں سے بھارت کی جارحیت کا مقابلہ کرتے آرہے ہیں اور اگر بھارت نے کنٹرول لائن کے پرامن ماحول کو سبوتاز کرنے کی کوشش کی تو اسے سخت جواب دیا جائے گا۔ ہم پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں، فوج سے پہلے ہم بھارتی فوج کا سامنا کریں گے، ہم پہلے بھی قربانیاں دیتے آئے ہیں اور اب بھی تیار ہیں۔”

شہریوں کا عزم اور حوصلہ بلند ہے اور وہ اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ وادی نیلم میں کھیلوں کی سرگرمیاں نوجوانوں کو مثبت انداز میں مصروف رکھنے کا ذریعہ بن رہی ہیں۔

مقامی افراد نے یہ بھی بتایا کہ سیاحوں کی آمد کا سلسلہ جاری ہے اور وہ کہتے ہیں کہ “بارڈر کے اُس پار سنّاٹا چھایا ہوا ہے، جہاں بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں خوف و ہراس پھیلایا ہواہے اور سیاحوں پر پابندیاں لگائی ہوئی ہیں۔ جبکہ آزاد کشمیر میں ماحول اس سے مختلف ہے، یہاں سیاحت پر کوئی پابندی نہیں ہے۔”

یہ بھی پڑھیں: بھارت پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے کیس تیار کر رہا ہے: امریکی اخبار کا انکشاف

انہوں نے مزید کہا کہ “پاکستانی فوج کنٹرول لائن پر کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہمہ وقت تیار ہے۔ ہم افواج پاکستان کو سلام پیش کرتے ہیں جو ہماری حفاظت کے لیے اپنی جانوں کی قربانی دیتے ہیں۔”

Scroll to Top