وادی لیپہ:حالیہ پاک بھارت کشیدگی کے تناظر میں وادی لیپہ کے سرحدی گاؤں سد پورہ کے مکینوں نے جرات اور حب الوطنی کی ایک بے مثال کہانی رقم کر دی ہے۔ بھارتی پوسٹوں سے محض چند میٹر کے فاصلے پر بسنے والے ان بہادر لوگوں نے ہر بھارتی دھمکی کو جوتیوں کی نوک پر رکھتے ہوئے یہ ثابت کر دیا کہ وطن سے محبت ان کی رگ رگ میں بسی ہوئی ہے۔
بارڈر لائن پر کھڑے ہو کر جب ان جانباز باسیوں سے خصوصی گفتگو کی گئی تو ان کے چہرے بالکل مطمئن تھے اور وہ اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف تھے ۔اسی دوران 80 سالہ بزرگ عبدالرشید نے پرعزم لہجے میں کہا کہ ہم بارڈر لائن پر رہنے والے لوگ ہیں، ہمیں مودی کی باتوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم اپنی پاک فوج کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔
ایک اور مقامی رہائشی نے جذبات سے لبریز ہو کر کہا کہ ہم بھارت کی دھمکیوں کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہیں۔ یارانِ جہاں کہتے ہیں کشمیر ہے جنت، جنت نہ کسی کافر کو ملی ہے نہ ملے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر جنگ مسلط کی گئی تو ان کی دلی خواہش ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کو بھی آزادی دلوانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ:”پاک فوج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے، اور اگر جنگ ہوئی تو ہماری پوری تیاری ہے ہم سب بارڈر پر لڑیں گے۔ ہماری فوج اورحکومت نے بہترین تیاریاں کر رکھی ہیں۔”
بارڈر پر کھڑے ہو کر ان دلیروں نے فلک شگاف نعرۂ تکبیر بھی بلند کیے اور دنیا کو واضح پیغام دیا کہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کے حوصلے نا قابل تسخیر ہیں اور وہ اپنی مٹی کے ایک ایک ذرے کا دفاع آخری سانس تک کریں گے۔
بارڈر کے بالکل قریب، گولہ باری کی ممکنہ زد میں کھڑے یہ لوگ، اپنی جرات اور قربانی کے جذبے سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ جو قومیں اپنے حق اور آزادی کے لیے متحد ہوں، انہیں دنیا کی کوئی طاقت زیر نہیں کر سکتی۔ ان دلیر دلوں کو خراج تحسین جو ہر لمحہ موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی حب الوطنی کے چراغ کو روشن رکھتے ہیں۔




