دودھ گئی (پھلوائی) میں 25 فروری 2025 کو برفانی تودہ گرنے کے باعث تین نوجوان شہید ہو گئے تھے جن کی نعشیں شدید برفباری کی وجہ سے اب تک نہیں نکالی جا سکیں۔
دودھ گئی سانحہ کے بعد سے پاک فوج اور سول سوسائٹی کی جانب سے شہداء کی نعشوں کی تلاش کے لیے آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا تاہم برفانی تودہ اور شدید برفباری کی وجہ سے آپریشن کو عارضی طور پر معطل کر دیا گیا تھا تاہم اب عید الفطر کے بعد پاک فوج کی قیادت میں سول سوسائٹی اور مقامی عوام نے مل کر دوبارہ اس مشترکہ آپریشن کو شروع کر دیا ہے۔ اس آپریشن میں 70 سے زائد نوجوانوں نے حصہ لیا ہے جن میں عسکری اور سول افراد شامل ہیں۔ واضح رہے کہ شدید برفباری کے باعث مزید برفانی تودے گرنے کی وجہ سے آپریشن میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
مقامی آبادی سے جائے حادثہ دور ہونے کی وجہ سے مشینری کی فراہمی میں مشکلات آرہی ہیں جس کے باعث اس آپریشن میں مزید پیچیدگیاں آ رہی ہیں مزید یہ کہ برفانی تودے کے باعث اس مقام پر برف کی مقدار زیادہ ہونے کے سبب مقامی افراد نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ مشینری، واٹر سسٹم (پائپ) اور جدید آلات فراہم کیے جائیں تاکہ آپریشن کو کامیابی سے پایہ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
یاد رہے کہ 25 فروری 2025 کو پھلوائی کے تین نوجوان دودھ گئی کے نالہ میں برفانی تودے کی زد میں آ کر شہید ہو گئے تھے، شہداء کی تلاش کے لیے 3 روزہ آپریشن کے بعد شدیدبرفباری کے باعث آپریشن معطل کردیاگیاتھا جو عید الفطر کے بعد پاک فوج کے تعاون سے پھلوائی کے عوام اور شہداء کے ورثاء کی اپیل پر دو بارہ عسکری وسول سوسائٹی کامشترکہ آپریشن شروع کیاگیاہے۔




