امریکی میڈیا اور انتخابی تجزیاتی اداروں نے مڈٹرم الیکشن میں ڈیموکریٹ کی پہلی کامیابی کا اعلان کردیا ہے جس کے مطابق ریاست ورجینیا سے ڈیموکریٹ امیدوار مارک وارنر چوتھی مرتبہ سینیٹ کی نشست جیتنے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔
ابتدائی نتائج کے مطابق ڈیموکریٹ کے 11 اور ری پبلیکن کے 3 امیدواروں کو برتری حاصل ہے جو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کیلئے خطرے کی گھنٹی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ٹرمپ کو مدٹرم الیکشن سے قبل بڑا عدالتی جھٹکا لگ گیا
امریکی چینل سی این این کے انتخابی تجزیاتی ادارے ’ڈسیژن ڈیسک‘ اور ایسوسی ایٹڈ پریس نے ڈیموکریٹ امیدوار مارک وارنر کی ریاست ورجینیا سے چوتھی مرتبہ سینیٹ کی نشست جیتنے کی خبر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارک وارنر نے ری پبلکن امیدوار برٹ میزوساوا کو شکست دی ہے جو امریکی فوج کے ریٹائرڈ میجر جنرل اور افغانستان جنگ میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔
مارک وارنر سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے نائب چیئرمین کی حیثیت سے ان 8امریکی قانون سازوں میں شامل تھے جنہیں ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بارے میں بریفنگ دی گئی تھی۔
مارک وارنر اس سے قبل ورجینیا کے گورنر بھی رہ چکے ہیں اور 2008 میں پہلی مرتبہ امریکی سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔
منگل کے روز امریکا کی تمام ریاستوں میں ایوانِ نمائندگان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہو رہے ہیں جب کہ سینیٹ کی 100 میں سے 35 نشستوں کے لیے بھی ووٹنگ جاری ہے۔ اس کے علاوہ 36 ریاستوں میں نئے گورنرز کے لیے بھی پولنگ کا عمل جاری ہے۔
امریکا میں کانگریس دو رکنی ایوان، سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان پر مشتمل ہوتا ہے۔ حالیہ انتخابات سے قبل حکومتی جماعت، ری پبلکنز کو دونوں ایوان میں معمولی اکثریت حاصل تھی۔
امریکی سینیٹ میں اکثریت کیلئے کسی بھی جماعت کو 51 نشستیں درکار ہوتی ہیں، جہاں ری 53 ری پبلکنز، 45 ڈیموکریٹس اور 2 آزاد سینیٹرز موجود تھے۔
یہ بھی پڑھیں:امریکا وسط مدتی انتخابات،کونسی 11نشستوں پر کانٹے کا مقابلہ ہے؟
حالیہ الیکشن میں سینیٹ کی 35 نشستوں پر سخت مقابلہ متوقع ہے، خاص طور پر ان سیٹوں پر جہاں روایتی طور پر ری پبلکنز کی پوزیشن مضبوط رہی ہے۔ ان ریاستوں میں کنساس، ٹیکساس، آئیووا، اوہائیو اور الاسکا شامل ہیں۔
رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق ڈیموکریٹ امیدوار ان تمام ریاستوں میں یا تو معمولی برتری رکھتے ہیں یا ری پبلکن امیدواروں کے مقابلے میں سخت مقابلے کی پوزیشن میں ہیں۔




