بھارت میں ہندوتوا نظریے کے تحت بھارتی مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر وار

بھارت میں مسلم ورثہ مسلسل نشانے پر ہے اور انتہا پسند بی جے پی کے اقتدار میں اسلامی تاریخی مقامات اور مساجد کو مٹانے کی مہم رک نہ سکی۔ ملک میں ہندوتوا نظریے کے نفاذ کے ساتھ ہی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کی مذہبی آزادی پر شدید ضرب لگائی جا رہی ہے۔

عالمی جریدے “شیعہ ویوز” میں شائع ہونے والی ایک اہم رپورٹ کے مطابق، دارالحکومت نئی دہلی میں مساجد اور تاریخی اسلامی مقامات کو خالی کرانے اور مسمار کرنے کے لیے بلدیاتی حکام کی جانب سے سخت کارروائیاں بلا تعطل جاری ہیں۔

مسلم ورثے کی مسماری اور بنیادی سہولیات کی منقطع گی

عالمی جریدے شیعہ ویوز کی رپورٹ کے مطابق جن متعدد مقامات کو مسمار کیا جا رہا ہے، وہاں کارروائی سے قبل ہی پانی اور بجلی سمیت دیگر تمام بنیادی سہولیات کی فراہمی منقطع کر دی گئی ہے تاکہ مقیم افراد اور انتظامیہ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔اس کے علاوہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت کی مختلف ریاستوں میں اب تک 2 ہزار سے زائد کارروائیاں کی جا چکی ہیں، جن کے دوران درجنوں مساجد اور دینی مدارس کو مسمار کیا گیا ہے۔

اپوزیشن اور مسلم رہنماؤں کا ردِعمل

عالمی نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق، بھارتی اپوزیشن جماعتیں اور مسلم رہنما بھی ان تمام مسماری کی کارروائیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنا چکے ہیں۔ ان رہنماؤں نے سرکاری اقدامات پر احتجاج کرتے ہوئے انہیں مودی سرکار کا ایک مخصوص سیاسی ہتھیار قرار دیا ہے۔

اقلیتوں کے تحفظ اور آئینی ڈھانچے کے لیے خطرہ

ان تمام اقدامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مودی سرکار کے مسلم مخالف اقدامات بھارت کے نام نہاد آئینی ڈھانچے اور اقلیتوں کے تحفظ کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہو رہے ہیں، جس سے ملک میں اقلیتوں کا مستقبل شدید خطرات سے دوچار ہے۔