خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں سمیت ملک بھر میں نام نہاد مذہبی سیاست، خاندانی اجارہ داری اور اقربا پروری پر عوامی صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے۔ جب بھی مذہب کو سیاسی مفادات اور اپنے خاندان کی بقا کے لیے بطور ڈھال استعمال کیا جاتا ہے، تو عوام کا ردِعمل شدید تر ہو جاتا ہے۔
آج پاکستان اور بالخصوص خیبرپختونخوا کے گلی کوچوں میں عوام کی زبان پر یہی سوال گردش کر رہا ہے کہ کیا مذہبی سیاست کا واحد مقصد اپنے بیٹوں، بھائیوں اور رشتہ داروں کے لیے وزارتیں اور اقتدار کا تخت سجانا رہ گیا ہے۔ بنوں کے عوام نے جمیعت علمائے اسلام کے سربراہ فضل الرحمان کی پالیسیوں اور پارٹی نظام میں بڑھتی ہوئی اقربا پروری کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
وزارتیں صرف بیٹوں اور خاندان تک محدود رکھنے پر شدید تحفظات:
ضلع بنوں کے شہریوں کا کہنا ہے کہ فضل الرحمان کا ہمیشہ سے یہ طریقہ کار رہا ہے کہ جب انہیں سیٹ یا اقتدار مل جاتا ہے تو ان کا رخ بدل جاتا ہے، اور جب انہیں نشست حاصل نہیں ہوتی تو وہ منفی گفتگو شروع کر دیتے ہیں۔ مفادات کی اس سیاست میں انہیں تمام تر صلاحیتیں صرف اپنے اور اپنے خاندان کے اندر ہی نظر آتی ہیں۔
شہریوں نے کہا کہ نام نہاد مولانا یہی سمجھتے ہیں کہ صرف وہ، ان کے بیٹے یا قریبی رشتے دار ہی گورنر بن سکتے ہیں یا وزارتیں حاصل کر سکتے ہیں۔ دوسری جانب جمیعت علمائے اسلام میں انتہائی باصلاحیت اور حقیقی معنوں میں عوام کی نمائندگی کرنے والے علماء موجود ہیں، جنہیں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: کالعدم ایکشن کمیٹی پر نقاب پوشوں کا قبضہ ، فضل الرحمن کا بیانیہ ناقابل برداشت،ارشد نیازی
مذہب کا استعمال، سستی سیاست اور کرپشن کے الزامات:
عوامی ردِعمل کے مطابق سچی اور حقیقی مذہبی سیاست ہمیشہ پاکیزہ اور اصولوں پر مبنی ہوتی ہے، لیکن کچھ نام نہاد مذہبی رہنما دین کا نام استعمال کر کے صرف اپنے ذاتی مفادات کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ فضل الرحمان جیسے لوگ مذہب کو سیاسی تحفظ کی ڈھال بنا کر خاندانی مفادات سمیٹنے میں مصروف عمل ہیں۔
علاوہ ازیں، عوام کا یہ بھی کہنا ہے کہ خیبرپختونخوا میں ہونے والی اربوں روپے کی کرپشن کے تانے بانے بھی انہی رہنماؤں کے ساتھ جا ملتے ہیں۔ اس طرح مذہب کی آڑ میں اپنے مالی اور سیاسی مفادات کو تحفظ فراہم کیا جا رہا ہے۔
اقتدار کے خاتمے پر ریاست مخالف بیانیہ اور احتساب کا مطالبہ:
عوامی ردِعمل میں اس تلخ حقیقت کی نشاندہی بھی کی گئی کہ جب تک انہیں اقتدار اور اہم نشستیں ملتی رہیں تب تک سب ٹھیک رہا، لیکن جیسے ہی کرسی ہاتھ سے نکل گئی تو انہوں نے شہداء، قومی اداروں اور ملک کے خلاف بولنا شروع کر دیا۔ اسمبلی کے فلور پر الگ ریاستوں اور ملک کو توڑنے جیسی باتیں کرنے کا ریکارڈ گواہ ہے کہ یہ رویہ اب قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔
اقربا پروری کے اس دوہرے معیار نے اب عوام کی آنکھیں کھول دی ہیں۔ مذہب کو سیاست کی ڈھال بنا کر ذاتی تجوریاں بھرنے اور خاندانی کاروبار چلانے کا یہ کھیل اب مزید نہیں چل سکتا۔ عوام کا ماننا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مذہب کے نام پر خاندانی دکانیں چلانے والے ان کرداروں کا بوبلا تاخیر احتساب کیا جائے۔




