امریکا کے مڈٹرم انتخابات کی آمد سے چند ہفتے قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوامی مقبولیت میں مزید نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو ان کی دونوں صدارتی مدت کی کم ترین سطح پر آ گئی ہے۔ اس تازہ ترین تنزلی نے آنے والے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کی صورتحال اور ووٹروں کے رجحانات پر گہرے سوالات اٹھا دیے ہیں۔
عالمی خبر رساں ادارے روئٹرز اور اپسوس کی جانب سے کیے گئے مشترکہ سروے کے نتائج سے معلوم ہوا ہے کہ 66 فیصد امریکی شہریوں نے صدر ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی پر شدید عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب اس سروے کے دوران صرف 31 فیصد امریکی ایسے پائے گئے جو ان کی صدارتی کارکردگی سے مطمئن دکھائی دیے۔
سیاسی ترجیحات اور ووٹروں کا رجحان:
عوامی رائے دہی کے اس جائزے میں ووٹروں سے فوری انتخابات کی صورت میں ان کے انتخاب کے بارے میں بھی سوالات کیے گئے۔ سروے کے مطابق 47 فیصد امریکیوں نے کہا کہ اگر فوراً انتخابات منعقد ہوتے ہیں تو وہ ڈیموکریٹ پارٹی کو ووٹ دیں گے، جبکہ اس کے مقابلے میں 35 فیصد افراد نے ریپبلکن پارٹی کو ووٹ دینے کا عزم ظاہر کیا۔
یہ بھی پڑھیں:ٹرمپ کا وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں، امریکی عہدیدار
اس اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹس کو عام ووٹروں کے درمیان ریپبلکنز کے مقابلے میں واضح برتری حاصل ہو چکی ہے۔ صدارتی مدت کے اس حساس موڑ پر ووٹروں کا ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف جھکاؤ مڈ ٹرم نتائج کے لیے نہایت اہم تصور کیا جا رہا ہے۔
معاشی کارکردگی اور پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر عوامی ردعمل:
معاشی محاذ پر بھی صدر ٹرمپ کو شدید عوامی تنقید کا سامنا ہے، کیونکہ سروے میں شامل 68 فیصد امریکی ان کی معاشی کارکردگی اور پالیسیوں سے بالکل ناخوش دکھائی دیے۔ علاوہ ازیں 40 فیصد امریکیوں نے معاشی معاملات اور اقتصادی تدابیر کو سنبھالنے کے لیے ڈیموکریٹس کو ریپبلکنز کے مقابلے میں ترجیح دی۔
تحقیقاتی سروے کے نتائج کے مطابق ایران پر کیے گئے فوجی حملے کے بعد عالمی اور مقامی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ پیٹرول اور ایندھن کے نرخوں میں اس اچانک اور بھاری اضافے نے امریکی عوام کے بجٹ کو متاثر کیا ہے جس کی وجہ سے صدر ٹرمپ کی مقبولیت کو شدید نقصان پہنچا ہے۔




