فرانس میں پُرتشدد احتجاج اور مظاہروں پر قابو پانے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے ملک کے متعدد شہروں میں کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔ حکام کی جانب سے یہ سخت اقدامات حالات کو کنٹرول میں لانے اور امن و امان کی صورتحال بحال کرنے کے مقصد سے اٹھائے جا رہے ہیں۔
غیر ملکی میڈیا سے سامنے آنے والی اطلاعات کے مطابق فرانس میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری اور تعلیمی سہولتوں کی شدید کمی کے خلاف گزشتہ کئی روز سے مسلسل احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ان مظاہروں میں شہریوں کی ایک بڑی تعداد سڑکوں پر نکل کر اپنے شدید مطالبات پیش کر رہی ہے۔
جلاؤ گھیراؤ، گرفتاریوں اور جانی نقصان کی تفصیلات:
جاری رپورٹ کے مطابق ان احتجاجی مظاہروں کے دوران مظاہرین کی جانب سے شدید توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے سنگین واقعات بھی دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان پُرتشدد تصادم کے دوران اب تک 1000 پولیس اہلکار شدید زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے 2400 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فرانس کے بعد البانیہ میں مظاہرے پھوٹ پڑے، وزیراعظم کا مستعفی ہونے سے انکار
سیکیورٹی اداروں کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے اور مزید نقصانات سے بچنے کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ گرفتاریوں کا یہ سلسلہ ملک کے مختلف حصوں میں اب بھی مسلسل جاری ہے۔
اہم شہروں میں نقل و حرکت پر پابندیاں:
غیر ملکی میڈیا کے مطابق ملک گیر احتجاج پر مکمل قابو پانے کی غرض سے پیرس، لیون، نیس اور شمالی علاقوں میں شہریوں کی عام نقل و حرکت پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ ان تمام متاثرہ علاقوں میں امن قائم کرنے کے لیے کئی مقامات پر باقاعدہ کرفیو کا نفاذ کیا گیا ہے۔
ان پابندیوں کا مقصد مزید ناخوشگوار واقعات کو روکنا اور شہروں کی سیکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ انتظامیہ کی جانب سے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے گھروں تک محدود رہیں اور قانون کی پاسداری کریں۔




