آزاد کشمیر ہائی کورٹ کا توہینِ عدالت کی درخواست پر بڑا حکم، متعلقہ حکام کی شدید سرزنش

آزاد جموں و کشمیر ہائی کورٹ کے سینئر جج جسٹس سید شاہد بہار نے توہینِ عدالت کی ایک درخواست پر سماعت کے دوران متعلقہ حکام کی شدید سرزنش کی ہے۔

عدالت عالیہ نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے درخواست گزار شعیب محمود اعوان کا بطور ایڈہاک سیکشن آفیسر تقرری کا آرڈر فوری طور پر جاری کرنے اور اسے عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے۔

مقدمے کے مندرجات اور عدالتی حکم:

تفصیلات کے مطابق ہائی کورٹ آزاد جموں و کشمیر کے سینئر جج جسٹس سید شاہد بہار کے روبرو توہینِ عدالت کی درخواست زیرِ سماعت تھی، جہاں انہوں نے محتسب کے ایک آفیسر اور متعلقہ حکام کی سرزنش کرتے ہوئے حتمی ہدایات جاری کیں۔

یہ بھی پڑھیں: ایڈہاک ایکٹ کیس: سپریم کورٹ ،ہائی کورٹ میں رِٹ پٹیشنز سماعتوں کی تاریخیں مقرر

درخواست گزار کے موقف کی تفصیلات:

مقدمہ عنوانی ‘شعیب محمود اعوان بنام احتساب بیورو’ (بنام محتسب آزاد جموں و کشمیر) میں درخواست گزار نے عدالت عالیہ کے سامنے اپنا مؤقف اختیار کیا تھا کہ واضح عدالتی حکم کے باوجود انہیں ملازمت سے غیر قانونی طور پر فارغ کر دیا گیا ہے۔

درخواست گزار نے اپنے مؤقف میں بیان کیا کہ عدالتی حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں نوکری سے نکالنا صریحاً توہینِ عدالت کے زمرے میں آتا ہے، لہذا متعلقہ حکام کے خلاف توہینِ عدالت کی باقاعدہ کارروائی عمل میں لائی جائے۔

مقدمے کی پیروی اور قانونی پیش رفت:

اس اہم اور حساس مقدمے کی پیروی درخواست گزار شعیب محمود اعوان کی جانب سے معروف قانون دان ثاقب جاوید ایڈووکیٹ کر رہے ہیں، جنہوں نے عدالتی احکامات کی عدم تعمیل پر مؤقف پیش کیا۔