امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بحر الکاہل یا بحر اوقیانوس میں سے کسی ایک اہم سمندر کا نام تبدیل کر کے اپنے نام پر ’بحر ٹرمپ‘ رکھنے کی نئی تجویز پیش کر دی ہے۔ انہوں نے ریاست ٹینیسی میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کے دوران اس بات کا اشارہ دیا۔
امریکی اخبار کی شائع کردہ رپورٹ کے مطابق ریاست ٹینیسی کے شہر کلارکس ول میں منعقدہ ایک بڑی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے وہاں موجود لوگوں کو بتایا کہ ہمارے پاس اس وقت ایک خوبصورت جھیل اور ایک خلیج موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب کسی شخص نے یہ کہا ہے کہ آپ کو ایک دریا کی بھی اشد ضرورت ہے، لہٰذا ہمیں ایک دریا کے ساتھ ساتھ ایک پورا سمندر بھی چاہیے۔
’بحر ٹرمپ‘ اور ’اوشن آف دی امریکاز‘ کی تجویز:
صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب کے دوران یہ بات واضح کی کہ وہ بحر اوقیانوس یا بحر الکاہل میں سے کسی ایک کا نام بھی بدل سکتے ہیں اور ساتھ ہی یہ تجویز دی کہ یہ نیا نام ان کے اپنے نام پر رکھا جانا ممکن ہے۔ وہاں موجود حاضرین کی پرزور تالیوں اور ہنسی کی گونج کے دوران ان کا مزید کہنا تھا کہ ہم اس کا نام ‘بحر ٹرمپ’ یا پھر ‘اوشن آف دی امریکاز’ یا اس سے ملتا جلتا کوئی بھی نیا نام منتخب کر سکتے ہیں۔ صدر کا کہنا تھا کہ میرا یہ خیال ہے کہ میرے یہاں سے جانے سے قبل ہمارا اپنا ایک سمندر لازمی ہونا چاہیے اور اس کے ساتھ ہی ہمیں ایک عظیم دریا کی بھی ضرورت ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ کا روس ، یوکرین میں جنگ بندی کا اعلان، زیلنسکی کو دھمکی بھی دیدی
ماضی کے جغرافیائی ناموں کی تبدیلی کے تنازعات:
یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ برس ‘خلیج میکسیکو’ کا پرانا نام تبدیل کر کے اس کا نیا نام ‘خلیج امریکا’ رکھ دیا تھا، جس کے نتیجے میں نہ صرف میکسیکو کے ساتھ سفارتی سطح پر شدید کشیدگی پیدا ہو گئی تھی بلکہ معروف عالمی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کی جانب سے اس نئے نام کو استعمال کرنے سے انکار پر ایک بڑا تنازع بھی کھڑا ہو گیا تھا۔
اس اقدام کے بعد کینیڈا کے ساتھ تجارت اور ٹیرف سے متعلق جاری کشمکش اور تنازع کے دوران رواں سال اگست کے مہینے میں صدر ٹرمپ نے امریکا اور کینیڈا کے درمیان واقع مشہور جھیل ‘اونٹاریو’ کا نام بھی یکسر تبدیل کر کے ‘لیک امریکا’ رکھ دیا تھا۔




