خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی، بدامنی اور امن و امان کے مسائل پر قابو پانے کے لیے وفاقی حکومت نے آرٹیکل 232, 234 کے تحت صوبے میں ایمرجنسی نافذ کردی ۔
اس فیصلے کو صوبے میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنانے اور عوام کو بدامنی سے نجات دلانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہےجبکہ آرٹیکل 245 کے تحت صوبے میں فوج کو طلب کر لیا گیا ہے ۔
طویل عرصے سے دہشت گردی اور عدم استحکام کا سامنا کرنے والے صوبے میں اب امن کی بحالی اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے حوالے سے نئی توقعات پیدا ہوئی ہیں۔
خیبرپختونخوا گزشتہ کئی برسوں سے دہشت گردی اور امن و امان کے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے،مختلف علاقوں میں دہشت گردی کے واقعات نے شہریوں کی زندگیوں، کاروباری سرگرمیوں اور معمولاتِ زندگی کو متاثر کیا ہے اوربہت سی جانیں گنوائی جا چکی ہیں۔
جن میں پاک فوج کے جوان اور سویلین افراد بھی شامل ہیں ،سکیورٹی کی غیر یقینی صورتحال کے باعث عوام میں تشویش پائی جارہی تھی ، جبکہ امن کی بحالی صوبے کی بنیادی ضرورت بن چکی تھی ۔
صوبے میں دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے واقعات کے تناظر میں پی ٹی آئی کی صوبائی حکومت کی ناکام حکمت عملی اور امن و امان برقرار رکھنے کی ناکافی صلاحیت اور ضد اور ہٹ دھر می کے باعث وفاقی حکومت کی جانب سے گورنر راج اور ایمرجنسی کا نفاذ اس صورتحال سے نمٹنے کیلئے ایک اہم اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
وفاقی حکومت کے اس اقدام کا بنیادی مقصد صوبے میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی اختیار کرنے کی راہ ہموار کرنا ہے۔
اس فیصلے کے ذریعے سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے، ریاستی اقدامات میں ہم آہنگی پیدا کرنے اور عوام کے تحفظ کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے گی۔
اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں کے ساتھ مشاورت کو بھی اہمیت دی گئی ہے، ایسے حالات میں سیاسی اتفاقِ رائے کی ضرورت مزید بڑھ جاتی ہے
دہشت گردی جیسے سنگین مسئلے سے نمٹنے کیلئے مؤثر سکیورٹی اقدامات کے ساتھ سیاسی تعاون اور ادارہ جاتی ہم آہنگی بھی ضروری ہے تمام سیاسی جماعتوں کی رائے کو مدنظر رکھتے ہوئے اور عوام کے بہترین مفاد میں یہ اقدام اٹھایا گیا ہے ۔
خیبرپختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو دہشت گردی اور امن و امان کے مسائل پر قابو پانے کے حوالے سے تنقید کا سامنا ہے صوبے میں بدامنی کے خاتمے کیلئے مؤثر اقدامات کئے جانے چاہئیں تھے اور عوام کے تحفظ کو اولین ترجیح دی جانی چاہیے تھی ۔
تاہم اس کے برعکس ایک طرح سے پی ٹی آئی حکومت صوبے میں دہشتگردوں کی ہمدرد بنی ہوئی تھی اور وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی صوبے کے عوام پر توجہ دینے کے بجائے احتجاج میں مشغول تھے ۔
خیبر پختونخوا کے شہری چاہتے تھے کہ صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں کمی آئے، کاروبار اور تعلیمی سرگرمیاں بلاخوف جاری رہیں اور لوگوں کو جان و مال کے تحفظ کا احساس حاصل ہو۔
اب وفاق نے عوام کے لیے بہترین اقدام کرتے ہوئے اور انہیں دہشتگردی سے بچانے کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی ہے،خیبرپختونخوا کے عوام کے لیے سب سے اہم سوال یہ ہے کہ ایمرجنسی کے نفاذ سے ان کی روزمرہ زندگی میں کیا تبدیلی آئے گی۔
صوبے میں امن کی بحالی کے لیے ضروری ہے کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ متاثرہ علاقوں میں معمولاتِ زندگی کی بحالی، عوامی مسائل کے حل اور بنیادی سہولتوں کی فراہمی پر بھی توجہ دی جائے، اس کے ساتھ قانون کی بالادستی اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ بھی اہم رہے گا۔
خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کا نفاذ صوبے کی سکیورٹی صورت حال سے نمٹنے کے لیے ایک اہم پیش رفت ہےاس اقدام سے صوبے سے دہشتگردی کا خاتمہ ہوگا اور عوام جو 13 سال سے مسائل میں گھرے ہوئے تھے اب مسائل سے نجات حاصل کریں گے ۔
صوبے میں امن کی بحالی، دہشت گردی کے خاتمے اور استحکام کے لیے وفاقی حکومت، صوبائی انتظامیہ، سکیورٹی اداروں اور سیاسی جماعتوں کے درمیان تعاون بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
وفاق نے تمام اسٹیک ہولڈر سے طویل مشاورت کے بعد کابینہ سے منظوری کے بعد اب صوبے میں ایمرجنسی کا نفاذ کردیا گیا ہے ۔
خیبرپختونخوا کے عوام طویل عرصے سے بدامنی کے خاتمے کے منتظر تھے اور اب ان کی توقعات اس فیصلے سے وابستہ ہیں کہ صوبے میں حالات بہتر ہوں، خوف کی فضا ختم ہو اور زندگی معمول پر واپس آسکے۔




