خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی نافذ،صدر مملکت نے سمری پر دستخط کردیئے

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وفاقی کابینہ کی جانب سےخیبرپختونخوا میں گورنرراج اور ایمرجنسی لگانے کی  ارسال کردہ سمری  پرصدر مملکت نے دستخط کر دیئے۔

وزیراعظم شہبازشریف کی زیرصدارت وفاقی کابینہ اجلاس میں خیبرپختونخوامیں گورنرراج اور ایمرجنسی لگانےکی منظوری دیدگئی،کابینہ ارکان نےوزیراعظم کوتجویز دی کہ صدرکو مشورہ دیں کہ حالات کی سنگینی کے پیش نظراپنا آئینی اختیاراستعمال کرتےہوئےآرٹیکل 232 اور 234 کےتحت ایمرجنسی نافذ کریں۔

اس سے قبل وزیراعظم شہبازشریف نےکابینہ اجلاس سےخطاب میں کہا اسلام آباد پرچڑھائی کامنصوبہ بنایاگیا ہے اور لانگ مارچ کےذریعےماضی کی بھیانک یادیں تازہ کرنےکی کوشش کی جارہی ہے

ایسی حرکت سے بڑی ملک دشمنی نہیں ہوسکتی،پاکستان نےآپ کو وزیر اعلیٰ بنایا، اب کیا آپ اس کا یہ صلہ دے رہے ہیں؟ کیا پاکستان کو لاچار بنانا چاہتے ہیں؟ قانون اپنا راستہ اختیار کرے گا اور ایسا نہیں ہونے دیا جائے گا۔

وزیراعظم نےمزیدکہاخیبرپختونخوا حکومت کو دہشتگردی کے خلاف وفاق کے ساتھ کھڑا ہونا چاہیے، لیکن صوبائی حکومت کی جانب سے اس معاملے پرکوئی واضح مؤقف سامنے نہیں آیا۔۔

 دہشتگردوں کا مقابلہ کرنا سب کی ذمہ داری ہے اور صورتحال روز بروز خراب ہوتی جارہی ہے۔،وزیراعظم نے کہاخیبرپختونخوا دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن صوبہ رہا ہے،جہاں انسداد دہشتگردی کےلیے 800 ارب روپےفراہم کیےجاچکے ہیں۔

صوبےمیں پولیس اورسی ٹی ڈی کو مضبوط نہیں بنایا گیا،فراہم کردہ فنڈزکہاں خرچ ہوئے،اس کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتے۔