عالمی یومِ اساتذہ: صدر اور وزیراعظم کا اساتذہ کو شاندار خراجِ تحسین اور عزم کا اعادہ

صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم محمد شہباز شریف نے عالمی یومِ اساتذہ کے موقع پر پاکستان سمیت دنیا بھر کے اساتذہ کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

 رہنماؤں نے اپنے پیغامات میں تعلیم کے فروغ، اساتذہ کی پیشہ ورانہ تربیت اور تمام طلبہ کے لیے معیاری تعلیمی مواقع کی فراہمی کے غیر متزلزل عزم کا بھرپور اظہار کیا ہے۔

صدر آصف علی زرداری کا اساتذہ کے بنیادی کردار اور ٹیکنالوجی سے متعلق پیغام:

صدر آصف علی زرداری نے اپنے پیغام میں اس بات پر زور دیا کہ اساتذہ دراصل ہر تعلیمی نظام کا بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ نہ صرف علم کی منتقلی کا فریضہ سرانجام دیتے ہیں بلکہ طلبہ میں تجسس کو پروان چڑھاتے، شاندار کردار سازی کرتے اور نوجوان نسل کو ذمہ دار و کارآمد شہری بنانے کے لیے تمام ضروری مہارتیں اور اقدار فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ رواں سال عالمی یومِ اساتذہ کی اہمیت اس لیے بھی کافی بڑھ چکی ہے کیونکہ یہ اساتذہ کی حیثیت سے متعلق 1966 کی آئی ایل او اور یونیسکو سفارشات کی 60ویں سالگرہ ہے۔ اس سال کا موضوع خاص طور پر اساتذہ کے پیشے کے تحفظ، معاشرے میں ان کے مقام کو بلند کرنے اور مستقبل کی تشکیل میں ان کے کلیدی کردار کو بھرپور انداز میں اجاگر کرتا ہے۔

صدر مملکت نے مصنوعی ذہانت سمیت ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس نے تعلیم کے طریقہ کار کو یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ ٹیکنالوجی تدریس اور سیکھنے کے عمل میں بہترین معاون ثابت ہوسکتی ہے، تاہم یہ کسی بھی صورت میں اساتذہ کی ہمدردی، قیمتی رہنمائی، اخلاقی تربیت اور طلبہ کو سمجھنے اور متاثر کرنے کی صلاحیت کا متبادل نہیں بن سکتی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا نظامِ تعلیم، دانش اسکولز اور پیشہ ورانہ تربیت سے متعلق مؤقف:

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ اساتذہ نوجوانوں کی تعلیم و تربیت، ذہنی نشوونما، فکری ارتقا اور شاندار کردار سازی میں کبھی نہ بھولنے والا ناقابل فراموش کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اساتذہ کی لازوال لگن، گہرے علم اور مضبوط عزم ہی دراصل تمام قوموں کے روشن مستقبل کی تعمیر و تشکیل کرتے ہیں۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان کی حقیقی ترقی کا پورا دارومدار معیاری نظام تعلیم اور بالخصوص قابل اساتذہ کی محنت پر ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ایک جامع اور مستقبل کے تمام تقاضوں سے ہم آہنگ نظام تعلیم میں مصنوعی ذہانت، موسمیاتی تبدیلی، تکنیکی ترقی اور روزگار سے متعلق تعلیم کو لازمی طور پر شامل کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے بتایا کہ موجودہ حکومت نظام تعلیم کو معیاری اور عالمی تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کو اپنی اولین ترجیح قرار دے رہی ہے۔ انہوں نے ذکر کیا کہ دانش اسکولز کے دائرہ کار میں وسیع پیمانے پر توسیع کے ذریعے تمام باصلاحیت اور مستحق بچوں، اور بالخصوص معاشی طور پر پسماندہ اور تعلیمی سہولیات سے محروم دور دراز علاقوں کے بچوں کو معیاری تعلیم کے مساوی مواقع فراہم کیے جا رہے ہیں۔

شہباز شریف نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اساتذہ کی معیاری پیشہ ورانہ تربیت، جدید تعلیمی وسائل کی فراہمی اور ان کے لیے سازگار ماحول کی تشکیل کے لیے حکومت پوری طرح پُرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایکسیلنس اِن ٹیچر ایجوکیشن کا قیام اسی سلسلے کی ایک انتہائی اہم کڑی ہے، جو اساتذہ کی جدید تربیت، معیاری تحقیق اور تدریسی استعداد کار میں اضافے کے لیے بھرپور کام کرے گا۔

قومی نصاب، فنی تربیت اور پسماندہ علاقوں کے اساتذہ کی خدمات کا اعتراف:

وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت ملک بھر میں قومی نصاب کے ذریعے تمام تر نصابی اصلاحات پر بھی انتہائی مؤثر انداز میں کام کر رہی ہے، جبکہ فنی تربیت اور ایک ہنر مند افرادی قوت کی تیاری پر بھی خصوصی توجہ دی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نیوٹیک اور وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام جیسے نمایاں اقدامات نوجوانوں کو صنعتی اور عملی زندگی کی ضروریات کے مطابق جدید فنی مہارتیں فراہم کرنے میں انتہائی معاون ثابت ہو رہے ہیں۔

اپنے پیغام کے آخر میں دونوں رہنماؤں نے ملک کے دور دراز، پسماندہ اور انتہائی دشوار گزار علاقوں میں انتہائی کٹھن حالات کے باوجود اپنے فرائض سر انجام دینے والے اساتذہ کی خصوصی طور پر پرجوش تعریف کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان اساتذہ کی تمام خدمات ایک عظیم قومی کاوش ہیں اور وہ ہم سب کی اجتماعی قدردانی اور بھرپور تعاون کے مکمل مستحق ہیں۔