ایکشن کمیٹی

کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا پی ٹی آئی کے ساتھ مارچ: عوامی مفاد یا سیاسی گٹھ جوڑ؟

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی جانب سے تحریک انصاف کے ساتھ مل کر مارچ کا اعلان کرنے کا فیصلہ اس وقت ملک میں کئی اہم اور سنجیدہ سوالات کو جنم دے رہا ہے۔

عوام  اور سیاسی حلقوں میں سب سے بڑا سوال یہ اٹھایا جا رہا ہے کہ اگر ایکشن کمیٹی کی اصل جدوجہد خالصتاً عوامی حقوق کے حصول کے لیے ہے، تو پھر ایسی صورت میں کسی ایک مخصوص سیاسی جماعت کے ساتھ باقاعدہ اتحاد کیوں کیا جا رہا ہے؟ کیا یہ قدم واقعی عوامی مسائل کے حل کی کوئی مخلصانہ کوشش ہے، یا پھر یہ صرف ایک دوسرے کی سیاسی قوت اور اثر و رسوخ کو بڑھانے کا ایک ذریعہ ہے؟

غیر جانب داری کا سوال اور ممکنہ نقصانات:

واضح رہے کہ یہ کسی بھی طرح تنقید برائے تنقید نہیں ہے، بلکہ یہ مکمل طور پر ایک اصلاحی تنقید ہے جس کا مقصد حالات کو درست کرنا ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو اس بات پر سنجیدگی سے سوچنا ہوگا کہ کیا اس قسم کی سیاسی وابستگی اس کی بنیادی غیر جانب داری کو بری طرح متاثر نہیں کرتی؟

اس کے علاوہ سب سے اہم تشویش یہ ہے کہ اگر اس احتجاج کے دوران خدانخواستہ دوبارہ سرکاری اداروں، ہسپتالوں یا عام شہریوں کی املاک کو کوئی نقصان پہنچتا ہے، تو اس کا آخری اور بڑا نقصان آخر کس کو برداشت کرنا پڑے گا؟

یہ بھی پڑھیں: ہٹیاں بالا: اہم رہنماؤں کا کالعدم عوامی ایکشن کمیٹی سے لاتعلقی کا اعلان

مکالمہ اور اصلاح کا درست راستہ:

یہ بات مسلّم ہے کہ پُرامن احتجاج کرنا ہر شہری کا پیدائشی اور آئینی حق ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ ملکی اداروں کو کمزور کرنا اور آپس میں تصادم کی فضا پیدا کرنا کبھی بھی کسی مسئلے کا حل ثابت نہیں ہو سکتا۔

مطالبات ضرور کیے جانے چاہئیں اور بھرپور احتجاج کا حق بھی استعمال کیا جانا چاہیے، مگر ہمیشہ ایسا راستہ اختیار کیا جانا چاہیے جس سے عامۃ الناس بھی مکمل طور پر محفوظ رہیں اور ریاستی ادارے بھی مضبوط ہوں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ حالات کی بہتری اور اصلاح کا اصل راستہ کبھی بھی تصادم نہیں بنتا بلکہ ہمیشہ مکالمہ ہی اس کا واحد حل ہوتا ہے۔