ارجنٹائن کی حکومت نے غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے شہریت حاصل کرنے کا نیا راستہ متعارف کرانے کا اعلان کیا ہے، جس کے تحت غیر ملکی شہری کم از کم 3 لاکھ 50 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری کے عوض ارجنٹائن کی شہریت حاصل کرسکیں گے۔
صدر جیویر میلی کی سرمایہ کاری بڑھانے کی کوشش
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ارجنٹائن کے صدر جیویر میلی حکومت کے مالی وسائل اور ملک میں ڈالر کے ذخائر بڑھانے کے لیے مختلف معاشی اصلاحات پر عمل پیرا ہیں۔ ان اقدامات میں سرکاری اخراجات میں کمی، معیشت کو ڈی ریگولیٹ کرنا اور تجارتی رکاوٹوں میں کمی شامل ہے۔
پیرس میں سٹیزن شپ بائی انویسٹمنٹ پروگرام کا اعلان
صدر جیویر میلی نے پیرس میں منعقدہ ارجنٹائن ویک کے موقع پر سٹیزن شپ بائی انویسٹمنٹ پروگرام کا اعلان کیا۔ اس پروگرام کے تحت غیر ملکی سرمایہ کار مخصوص شرائط پوری کرکے ارجنٹائن کی شہریت حاصل کرنے کے لیے درخواست دے سکیں گے۔
ساڑھے تین لاکھ ڈالر کی براہِ راست سرمایہ کاری
اعلان کردہ پروگرام کے مطابق سرمایہ کار ارجنٹائن کے قومی خزانے میں کم از کم 350,000 ڈالر کی براہِ راست اور ناقابلِ واپسی سرمایہ کاری کرسکتے ہیں۔ حکومت کے مطابق یہ سرمایہ کاری ملک کی مالی اور اقتصادی پوزیشن کو مزید مستحکم کرنے کے لیے استعمال کی جائے گی۔
8 لاکھ ڈالر کے سرکاری بانڈ کا آپشن بھی موجود
غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے دوسرا راستہ 800,000 ڈالر کے سرکاری بانڈز کی خریداری قرار دیا گیا ہے۔ اس طرح سرمایہ کار براہِ راست سرمایہ کاری کے علاوہ سرکاری بانڈز میں سرمایہ کاری کے ذریعے بھی پروگرام سے فائدہ اٹھا سکیں گے۔
شریک حیات اور بچوں کے لیے بھی شہریت کی سہولت
پروگرام کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اہل سرمایہ کار کے شریک حیات اور بچوں کو بھی شہریت حاصل کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ارجنٹائن میں سرمایہ کاری کی جانب راغب کرنا اور ملک میں بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ کرنا ہے۔
سرمایہ کاری کی سخت جانچ اور منی لانڈرنگ کی روک تھام
ارجنٹائن کی وزارتِ معیشت کے مطابق سرمایہ کاری سخت جانچ پڑتال کے عمل سے مشروط ہوگی۔ حکام سرمایہ کاری کے ذرائع، فنڈز کی ٹریس ایبلٹی اور منی لانڈرنگ کی روک تھام کو یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کے تقاضوں کو بھی مدنظر رکھیں گے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اسپین کی جیت کے بعد ہنگامہ آرائی، ارجنٹائن کے لیونڈرو پریڈیس نے ایرک گارسیا کا گلا دبا دیا
ارجنٹائن حکومت کا کہنا ہے کہ اس پروگرام کے ذریعے حاصل ہونے والے وسائل ملک کی مالی اور اقتصادی پوزیشن کو مزید مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہوں گے، جبکہ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے سے ملکی معیشت کو بھی فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔




