عثمان علی

حکومت دھیر کوٹ میں کانفرنسی کارکنان کیخلاف انتقامی کارروائیوں سے باز رہے:عثمان علی خان

مظفر آباد(کشمیر ڈیجیٹل)چیئرمین یوتھ ونگ سردارعثمان علی خان نے انتظامیہ کی جانب سے مسلم کانفرنسی کارکنان کیخلاف دھیر کوٹ میں انتقامی کارروائیوں کی شدید مذمت کی اور کہا کہ انتخابات میں بدترین دھاندلی اور جوڑ توڑ کے ذریعے مسلم کانفرنس کو اسمبلی سے باہر کرکے بھی انتظامیہ کا دل ابھی نہیں بھرا۔

سابق وزیراعظم آزاد سردار عتیق احمد خان کے صاحبزادے نے کہا کہ حکومت آزادکشمیر مسلم کانفرنس کیخلاف انتقامی کارروائیوں سے باز رہے۔ انہوں نے کہا کہ دھیرکوٹ میں مسلم کانفرنس کے کارکنان کیخلاف ناجائز تجاوزات کے نام پر کی جانے والی انتقامی کارروائیاں انتہائی قابل مذمت ہیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:مسلم کانفرنس کی جنرل کونسل ومرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کا اعلامیہ جاری ، بڑے مطالبات پیش

اگر انتظامیہ نے ناجائز تجاوزات کیخلاف کوئی کارروائی کرنی ہے تو اسے بلا تخصیص اور بلا امتیاز کرنا چاہیے لیکن چن چن کر مسلم کانفرنس کے کارکنان اور کشمیر بنے گا پاکستان کے حامیوں کو نشانہ بنانا کسی خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔

آزادکشمیر حکومت اور ان کی انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ ابھی دوسرے اہم مسائل پر توجہ دیں جن میں آزادکشمیر کا امن و امان سرفہرست ہے۔ مسلم کانفرنس کیخلاف جس طرح ماضی میں بھی کی جانے والی انتقامی کارروائیوں کا آج تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا اسی طرح مستقبل میں بھی ان اقدامات کا کوئی فائدہ نہیں اُٹھایا جاسکتا۔

حکومت آزادکشمیر کو چاہیے کہ مقامی نوعیت کے معاملات میں اگر انتقامی کارروائی بھی کرنی ہو تب بھی رینجرز اور ایف سی کو استعمال کرکے حکومت پاکستان کیلئے بدنامی کا سامان مہیا نہ کریں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سردار عتیق ، یعقوب ملاقات ،عہدیداروں کے تحفظات، مسلم کانفرنس میں پھوٹ کی گونج

یاد رہے کہ دھیرکوٹ میں گزشتہ روز مسلم کانفرنس کے معروف کارکنان راجہ سادات خان، راجہ غلام رسول خان، راجہ بابر معظم، راجہ ذوالفقار، راجہ اظہر اور راجہ آفتاب خان کی جائز قانونی ملکیتی عمارات کو بغیر کسی نوٹس اور قانون تقاضہ پورے کیے بغیر مقامی انتظامیہ نے نقصان پہنچانے کیلئےرینجرز اور ایف سی کو استعمال کیا جو انتہائی قابل مذمت اور حکمت عملی کے نقطہ نظر سے تشویشناک ہے۔