ہائی کورٹ نے منشیات کے ایک اہم مقدمے میں مطلوب مجرم کو براہِ راست عدالتِ عالیہ سے ہی گرفتار کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے، جس پر فوری عمل کرتے ہوئے پولیس نے مجرم کو حراست میں لے لیا ہے جبکہ عدالت کی جانب سے مجرم کی روپوشی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے پر متعلقہ پولیس افسران کی شدید سرزنش بھی کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ہائی کورٹ کے معزز ججز جسٹس سردار محمد اعجاز خان اور جسٹس جناب چوہدری خالد رشید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے ضلع باغ سے تعلق رکھنے والے منشیات کے نامزد ملزم راجہ دلاور سلطان کیانی کو عدالت کے اندر سے ہی گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ عدالتی حکم کی تعمیل کرتے ہوئے پولیس نے فوری طور پر اس مفرور مجرم کو اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ اس سے قبل قانونی کارروائی کے دوران مجرم کو اعلیٰ عدالتوں کی جانب سے کسی قسم کا ریلیف فراہم نہیں کیا گیا تھا اور اس کی دائر کردہ ضمانت کی درخواست بھی باقاعدہ طور پر مسترد ہو چکی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: ہائی کورٹ: ایڈہاک ایکٹ کے خلاف دائر رٹ پٹیشن پر سماعت 23 ستمبر کو ہوگی
پولیس کی غفلت پر عدالتی ریمارکس اور سرزنش:
مذکورہ مجرم کافی طویل عرصے سے قانون کی گرفت سے مفرور چلا آ رہا تھا، اس حوالے سے پولیس کا مؤقف یہی رہا تھا کہ ملزم مفرور ہے اور اسے باقاعدہ تلاش کر کے گرفتار کر کے عدالت کے روبرو پیش کیا جائے گا۔ اس تمام قانونی کارروائی کے دوران حیرت انگیز طور پر مطلوب مجرم خود چل کر عدالت میں پیش ہو گیا، جبکہ اس موقع پر پولیس کے دو اعلیٰ افسران بھی عدالت میں موجود تھے۔
عدالت نے اس صورتحال پر سخت نوٹس لیتے ہوئے دونوں پولیس افسران کی شدید سرزنش کی اور اپنے ریمارکس میں واضح کیا کہ پولیس افسران کو اس بات کا ہوش ہی نہیں ہے کہ ملزم خود عدالت کے اندر پیش ہو چکا ہے اور وہ اس کے باوجود یہ بیان دے رہے ہیں کہ مجرم تاحال مفرور ہے۔ عدالتی احکامات کی روشنی میں آخر کار اسی وقت مفرور مجرم کو احاطہ عدالت سے ہی حراست میں لے لیا گیا۔




