بانی پاکستان بابائے قوم قائداعظم محمدعلی جناحؒ کی 78 ویں برسی آج منائی جا رہی ہے

ملک بھر میں بانی پاکستان قائدِ اعظم محمد علی جناح کی 78ویں برسی آج نہایت عقیدت و احترام کے ساتھ منائی جا رہی ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کے لیے الگ وطن کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے والے عظیم قائد کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا یہ دن جہاں ایک طرف سوگوار فضا کا حامل ہے، وہیں دوسری طرف قومی عزم کی تجدید کا بھی مظہر ہے۔

چوبیس دسمبر اٹھارہ سو چھہتر (25 دسمبر 1876ء) کو کراچی میں آنکھ کھولنے والے محمد علی جناح نے اپنی غیر معمولی سیاسی بصیرت اور مدبرانہ قیادت کے بل بوتے پر برصغیر کے مسلمانوں کو ایک آزاد اور خودمختار مملکت دلوائی۔ انہوں نے شدید علالت کے باوجود دن رات محنت کر کے تاریخ کا دھارا بدلا اور آزادی کے بعد کراچی کو نوزائیدہ مملکت کا پہلا دارالحکومت بنایا، تاہم قیامِ پاکستان کے صرف تیرہ ماہ بعد ہی گیارہ ستمبر انیس سو اڑتالیس (11 ستمبر 1948) کو 71 برس کی عمر میں یہ عظیم رہنما اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔

یہ بھی پڑھیں: مزار قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی تقریب، پاک فضائیہ نے فرائض سنبھال لیے

قائداعظم کے زریں اصول اور موجودہ دور کے چیلنجز:

آج کے اس پرعزم دن پر قائدِ اعظم کے ارشادات اور ان کا عطا کردہ زریں اصول “اتحاد، ایمان اور تنظیم” محض چند لفظوں کا مجموعہ نہیں بلکہ موجودہ دور کے تمام ملکی اور اجتماعی چیلنجز سے عہدہ برآ ہونے کا واحد شافی علاج تسلیم کیا جاتا ہے۔

بابائے قوم کی برسی کا یہ دن ہمیں اس امر کی بھرپور یاد دہانی کراتا ہے کہ ایک مستحکم، مضبوط اور باوقار پاکستان کی تشکیل کے لیے ان کے افکار و نظریات پر صدقِ دل سے عمل پیرا ہونا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔ بابائے قوم کا پیغام ہمیں اتحادِ امت اور سخت محنت کی راہ دکھاتا ہے تاکہ اس ملک کو حقیقی معنوں میں ایک طاقتور فلاحی ریاست بنایا جا سکے۔