انصار اللہ اپنے فیصلے خود کرتی ہے، امریکا خطے میں مداخلت بند کرے، ایران

ایران کاکہنا ہے کہ امریکا حقیقی معنوں میں امن چاہتا ہے تو خطے میں عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرے۔ایران نے یمن کی انصاراللہ سے متعلق امریکی وزیر خارجہ کے الزامات بھی مسترد کردیئے۔

ترجمان ایرانی وزارت خارجہ اسماعیل بقائی نے کہا کہ انصاراللہ یمن کی خودمختار تنظیم ہے جو اپنے فیصلے خود کرتی ہے ، انصاراللہ نہ تو کسی سے احکامات لیتی ہے،نہ ہی کسی کی پراکسی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایٹمی توانائی ایجنسی نے پہلی بار ایران کی سلامتی کونسل کو شکایت لگا دی

اسماعیل بقائی نے کہا کہ خطے میں عدم استحکام کی جڑ امریکی فوجی مداخلت اور حاکمانہ پالیسیاں ہیں، واشنگٹن حقیقی معنوں میں امن چاہتا ہے تو خطے میں عدم استحکام پر مبنی مداخلت بند کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ بموں اور بیرونی دباؤ سے یمن میں امن قائم نہیں کیا جاسکتا، تمام فریقوں کے متفقہ روڈمیپ کی بنیاد پر حقیقی مذاکرات سے امن قائم ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے گزشتہ روز کہاتھا کہ یمنی حوثی ایران کے ایجنٹ اور پراکسی ہیں۔

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ حوثیوں کے سعودی عرب پر حملوں میں واضح طور پر ایرانی ہاتھ نظر آتا ہے، سعودی عرب کے ساتھ امریکا کے مضبوط دفاعی تعلقات ہیں۔

مارکو روبیو نے کہا کہ واقعات پر گہری نظر ہے، یمنی فورسز حوثیوں کی پیش قدمی روکنے کی کوشش کر رہی ہیں۔

ادھریمن میں سعودی قیادت میں حوثیوں کے خلاف لڑنے والے عرب اتحاد نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں نے سعودی عرب کے جنوبی علاقوں پر تازہ حملے کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:ایران جنگ کب ختم ہوگی؟ڈونلڈ ٹرمپ نے تاریخ بتادی

غیر ملکی خبررساں ایجنسی کے مطابق یہ حملے ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب باغیوں نے اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے باب المندب کا کنٹرول حاصل کرنے کیلئے اپنی عسکری کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔

عرب اتحاد کے ترجمان ترکی المالکی نے ایک بیان میں تصدیق کی کہ حوثیوں نے ’خمیس مشیط، ابہا اور جازان شہروں کی جانب متعدد بیلسٹک میزائل اور ڈرون فائر کیے ہیں۔