انگلش چینل میں ربڑ کی ایک ہی کشتی پر سوار تقریباً 140 تارکین وطن کو ریسکیو کر لیا گیا ہے۔ یہ کشتی فرانس کے علاقے نارمنڈی سے روانہ ہوئی تھی اور برطانوی سمندری حدود میں داخل ہونے کے بعد مدد طلب کی گئی۔
فرانسیسی کوسٹ گارڈ کے مطابق برطانوی رائل نیشنل لائف بوٹ انسٹیٹیوشنRNLI) )کی دو لائف بوٹس نے کارروائی کرتے ہوئے تمام افراد کو بچایا اور بحفاظت برطانیہ کے ساحل تک پہنچا دیا۔
مزید یہ بھی پڑھیں:اماراتی حکومت نے دبئی میں غیرقانونی مقیم تارکین وطن کیلئے بڑا اعلان کردیا
فرانسیسی ریسکیو کشتیاں تقریباً 10 گھنٹے تک اس کشتی کی نگرانی کرتی رہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ سمندر میں کشتی کو زبردستی روکنا انتہائی خطرناک ہو سکتا تھا، اس لیے اسے برطانوی حدود میں داخل ہونے دیا گیا جہاں بیمبرج اور یارماؤتھ سے آنے والی لائف بوٹس نے اسے تحفظ فراہم کیا۔
حکام کے مطابق تارکین وطن نے اپنے سفر کا آغاز خلیجِ سین کے علاقے سے کیا تھا جو کہ کیلے کے روایتی روانگی مقامات سے تقریباً 170 میل دور ہے۔ اس غیر معمولی راستے کے باعث برطانیہ تک کا یہ سفر معمول سے کہیں زیادہ لمبا ثابت ہوا۔
یہ پیشرفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند روز قبل ہی وزیراعظم اور فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کے درمیان چھوٹی کشتیوں کے ذریعے غیر قانونی آمدورفت کو روکنے کے حوالے سے اہم بات چیت ہوئی تھی۔
دوسری جانب، اتوار کی رات پورٹس ماؤتھ کے ایسٹنی لینڈنگ فیری پورٹ کے قریب پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید کشیدگی دیکھی گئی، جہاں ان تارکین وطن کو ساحل پر اتارا گیا تھا۔
اس سے ایک دن قبل ڈوور بندرگاہ پر بھی نقاب پوش افراد کے ایک بڑے گروپ نے چھوٹی کشتیوں کی آمد کے خلاف احتجاج کیا تھا، جس سے وہاں کی معمول کی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:امریکا کا 6 ممالک کے تارکین وطن کے ورک پرمٹ میں توسیع کا فیصلہ
واضح رہے کہ ایک رپورٹ کے مطابق رواں سال اگست میں ایک ہی چھوٹی کشتی پر سوار ہو کر ریکارڈ 230 افراد نے انگلش چینل عبور کر کے برطانیہ پہنچنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔




