وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے کہ نئے صوبوں کے قیام کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہیے تاکہ وہ اپنی ضروریات اور خواہشات کے مطابق طے کر سکیں کہ ملک میں کس نوعیت کا انتظامی نظام ہونا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی دنیا کے مختلف ممالک میں طرزِ حکمرانی کا مشاہدہ کر رہے ہیں اور پاکستان میں بھی بہتر قیادت اور مؤثر نظامِ حکومت دیکھنا چاہتے ہیں۔
نئے صوبوں کا فیصلہ عوام کی رائے سے ہونا چاہیے
آزاد ڈیجیٹل سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ نئے صوبوں کے حوالے سے عوام کو فیصلہ کرنے کا اختیار ملنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ عوام خود طے کریں کہ وہ نئے صوبوں کے قیام اور ملک کے انتظامی ڈھانچے کے حوالے سے کیا چاہتے ہیں۔
پاکستان میں بہتر طرزِ حکمرانی کی خواہش
محسن نقوی نے پاکستان میں بہتر قیادت اور گورننس کی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ملک میں ایسے متعدد رہنما سامنے آئیں جو مؤثر انداز میں عوام کی خدمت اور شہری انتظام کو بہتر بنا سکیں۔
صادق خان، ممدانی اور اردوان جیسے رہنما چاہئیں
وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں لندن کے میئر صادق خان، نیویارک کے میئر زوہران ممدانی اور ترک صدر رجب طیب اردوان جیسے متعدد رہنما سامنے آئیں۔
مزید یہ بھی پڑھیں:انتظامی نظام کو آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے ’ری سیٹ‘ کرنے کی ضرورت ہے: محسن نقوی
محسن نقوی کا کہنا تھا کہ “میری خواہش ہے کہ پاکستان میں بہت سے صادق خان، بہت سے ممدانی اور بہت سے اردوان ہوں۔”
اوورسیز پاکستانی دنیا کے نظام دیکھ رہے ہیں
انہوں نے کہا کہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی مختلف ممالک کے انتظامی اور حکومتی نظاموں کو قریب سے دیکھ رہے ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی اسی نوعیت کی بہتر قیادت اور مؤثر طرزِ حکمرانی متعارف ہو۔
عوام کو مستقبل کے انتظامی ڈھانچے کا حق حاصل ہے
محسن نقوی نے مؤقف اختیار کیا کہ ملک کے مستقبل کے انتظامی ڈھانچے کا فیصلہ عوام کی خواہشات، ضروریات اور اُمنگوں کے مطابق ہونا چاہیے اور عوام کو یہ حق حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے لیے موزوں نظام کا انتخاب کریں۔




