سپارکو

​سپارکو 8 ستمبر کو کراچی میں چوتھے علاقائی سمپوزیم کی میزبانی کرے گا

​کراچی: پاکستان اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو)، اپنے “اسپیس ایپلی کیشنز سینٹر فار کلائمیٹ سائنسز” کے توسط سے،  8 ستمبر کو پی سی ہوٹل کراچی میں “اسپیس فور کلائمیٹ” کے عنوان کے تحت چوتھے علاقائی سمپوزیم کی میزبانی کرے گا۔

اس کا مقصد پاکستان کے موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں خلائی ٹیکنالوجی کے کردار کا جائزہ لینا ہے۔ اس تقریب میں پالیسی ساز، سائنسدان، محققین، ترقیاتی شراکت دار، ماہرینِ تعلیم اور صنعت سے وابستہ ممتاز افراد شرکت کریں گے۔ اس سے قبل پشاور، گلگت اور لاہور میں بالترتیب 23 جولائی 2026، 5 اگست 2026 اور 27 اگست 2026 کو تین سمپوزیم کامیابی کے ساتھ منعقد کیے جا چکے ہیں۔

واضح رہے کہ ​پاکستان کا شمار اب بھی موسمیاتی تبدیلی سے شدید متاثر ہونے والے ممالک میں ہوتا ہے، جسے سیلاب، خشک سالی، ہیٹ ویو، جنگلات کی کٹائی، ہوا کے معیار میں گراوٹ، ساحلی کٹاؤ، گلیشیر پگھلنے سے پیدا ہونے والے سیلاب اور موسموں کے بدلتے ہوئے پیٹرن جیسے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔

اس صورتحال کے پیشِ نظر، یہ سمپوزیم موسمیاتی موافقت اور خطرات کو کم کرنے کیلئے بروقت، دقیق اور عملی معلومات کی فراہمی میں مقامی خلائی صلاحیتوں کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سپارکو کا تیسرا علاقائی سمپوزیم، موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے خلائی ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور

​یہ سمپوزیم سیٹلائٹ پر مبنی زمینی مشاہدے، جیو اسپیشل ٹیکنالوجیز اور کلائمیٹ انٹیلی جنس کے استعمال پر مکالمے، تعاون اور معلومات کے تبادلےکیلئے ایک قومی پلیٹ فارم کے طور پر کام کرے گا تاکہ شواہد پر مبنی پالیسی سازی کو مضبوط، قدرتی آفات سے نمٹنے کی صلاحیت کو بہتر اور پائیدار ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

​سمپوزیم کی ایک اہم خصوصیت “اسپیس فور کلائمیٹ” یعنی سپارکو کے قومی موسمیاتی انٹیلی جنس اقدام پر پیشکش اور کلائمیٹ پورٹلز کا لائیو مظاہرہ ہوگا۔ یہ پورٹل پاکستان کے سیٹلائٹ اثاثوں بشمول PRSS-1 اور ہائپراسپیکٹرل سیٹلائٹ صلاحیتوں کا استعمال کرتے ہوئے موسمیاتی تغیرات اور ماحولیاتی اشاریوں کی نگرانی کرتے ہیں۔

یہ اقدام گرین ہاؤس گیسوں، ہوا کے معیار، گلیشیئرز، گلیشیائی سیلاب، جنگلات، آبی وسائل، زمین کے احاطے، ساحلی ماحولیاتی نظام اور دیگر حساس شعبوں سے متعلق تقریباً حقیقی وقت میں معلومات فراہم کرتا ہے، جس سے قومی اور صوبائی سطح پر درست فیصلے کرنے میں مدد ملتی ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:سپارکو کے زیر اہتمام لاہور میں تیسری علاقائی “اسپیس فار کلائمیٹ” سمپوزیم 27 اگست کو منعقد ہوگی

​یہ سمپوزیم قومی موسمیاتی ترجیحات سے ہم آہنگ ہے جبکہ پائیدار ترقی کے اہداف، پیرس معاہدے اور قدرتی آفات کے خطرات کو کم کرنے کیلئے ‘سیندائی فریم ورک’ کے تحت بین الاقوامی عزم کی حمایت کرتا ہے۔ یہ قومی ترقی اور ماحولیاتی پائیداری کیلئے خلائی سائنس و ٹیکنالوجی کو پرامن مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے سپارکو کے مسلسل عزم کی بھی عکاسی کرتا ہے۔