طویل عرصے سے روپوش پی ٹی آئی رہنما حماد اظہر ملتان سے گرفتار، لاہور پولیس کے حوالے

پاکستان تحریک انصاف کے نمایاں رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی حماد اظہر کو طویل عرصے روپوش رہنے کے بعد گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حماد اظہر کو ملتان سے حراست میں لینے کے فوراً بعد لاہور پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے تاکہ ان کے خلاف درج مقدمات میں آگے کی کارروائی کی جا سکے۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ حماد اظہر 9 مئی 2023ء کے واقعات کے بعد سے متعدد مقدمات میں مطلوب تھے اور ایک طویل عرصے سے روپوش چلے آ رہے تھے۔ انہیں 9 مئی کے پرتشدد واقعات سے متعلق متعدد مقدمات میں ملوث قرار دیا گیا تھا اور لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے بھی انہیں اشتہاری قرار دے رکھا تھا۔

انسداد دہشت گردی عدالت کے فیصلے اور سزا

جنوری 2026ء میں لاہور کی انسداد دہشت گردی عدالت نے جی او آر گیٹ حملہ کیس میں حماد اظہر سمیت 7 ملزمان کو باقاعدہ اشتہاری قرار دیتے ہوئے ان کے دائمی وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے اور متعلقہ اداروں کو ملزمان کی گرفتاری کا حکم دیا تھا۔ بعد ازاں مارچ 2026ء میں 9 مئی کے جی ایچ کیو حملہ کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت نے حماد اظہر سمیت 47 اشتہاری ملزمان کو 10،10 سال قید اور جرمانے کی سزا بھی سنائی تھی۔ عدالت کے فیصلے میں واضح کیا گیا تھا کہ ان تمام ملزمان پر 9 مئی کو جلاؤ گھیراؤ، توڑ پھوڑ، پولیس پر حملوں اور سرکاری املاک کو شدید نقصان پہنچانے کے الزامات ثابت تھے۔

یہ بھی پڑھیں: اسلام آباد ہائیکورٹ کا بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی مبینہ قید تنہائی کیس میں بڑا فیصلہ، درخواستیں قابلِ سماعت قرار

حماد اظہر کا سیاسی پس منظر اور موجودہ صورتحال

حماد اظہر پاکستان تحریک انصاف کے اہم ترین رہنماؤں میں شمار ہوتے ہیں جو 2018ء کے عام انتخابات میں لاہور کے حلقہ این اے 126 سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے اور قومی اسمبلی کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق انہوں نے سابق اسمبلی میں اپنے فرائض انجام دیے۔ پولیس ذرائع کے مطابق حماد اظہر کی لاہور منتقلی کے بعد 9 مئی کے ان تمام مقدمات میں قانونی عمل آگے بڑھایا جائے گا۔ واضح رہے کہ ان کی یہ گرفتاری ایسے وقت میں ہوئی ہے جب 9 مئی کے مختلف واقعات سے متعلق لاہور اور دیگر مقامات پر درج مقدمات میں مطلوب افراد کے خلاف عدالتی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔