صحت کے شعبے میں لوٹ مار کی مثال کہیں نہیں ملتی، پمز کا سانحہ کرپشن کا نتیجہ ہے: خواجہ آصف

وفاقی وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ جتنی لوٹ مار اور کرپشن صحت کے شعبے میں دیکھنے کو ملتی ہے، اس کی مثال کہیں اور نہیں ملتی۔ پمز (PIMS) میں پیش آنے والا المناک سانحہ محض ایک حادثہ نہیں بلکہ بدعنوانی کا براہِ راست نتیجہ ہے۔

سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ دفاع نے کہا کہ سیالکوٹ کی انڈسٹری اور معیشت کے ساتھ لاکھوں ورکرز جڑے ہوئے ہیں اور عالمی سطح پر اپنی مصنوعات کی وجہ سے شہرت رکھنے والے اس شہر کے فیکٹری ورکرز کے لیے سوشل سیکیورٹی اسپتال میں اے کلاس اور جدید سہولیات کی فراہمی انتہائی ضروری تھی، جو اب یقینی بنائی جا رہی ہے۔

پمز سانحے پر کڑی تنقید اور انتظامی شفافیت پر سوالات:

پمز اسپتال میں پیش آنے والے حالیہ واقعے کا ذکر کرتے ہوئے خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اس بڑے سانحے کا سخت نوٹس لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پمز کے واقعے میں سب ملے ہوئے تھے اور وہاں ہیلتھ ریگولیٹری باڈی بھی ملوث دکھائی دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ صورتحال ایسی ہے جیسے چوروں کو ہی پولیس میں بھرتی کر دیا گیا ہو، جہاں معالجاتی جذبے کے بجائے صرف مال کمانے کو ترجیح دی جاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سانحہ پمز،سینیٹ کمیٹی میں تمام ریکارڈ غائب کرنے سمیت اہم انکشافات

انہوں نے واضح کیا کہ جو کچھ پمز میں ہوا وہ پورے ملک کے ہیلتھ کیئر سسٹم کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔

غیر رجسٹرڈ اسپتالوں کا انکشاف اور سیالکوٹ کے لیے نئے منصوبے:

وزیرِ دفاع نے مزید کہا کہ راولپنڈی جیسے بڑے شہر میں بھی کئی بڑے اسپتال موجود ہیں جو سرے سے رجسٹرڈ ہی نہیں ہیں۔

خطاب کے اختتام پر انہوں نے سیالکوٹ کے عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا کہ شہر کے مقامی اسپتالوں میں کینسر کے موثر علاج اور برن یونٹ کی جدید سہولت جلد میسر کر دی جائے گی۔