امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی عوام میں مقبولیت کی شرح شدید زوال کا شکار ہو کر ان کے سیاسی کیرئیر کی کم ترین سطح 33 فیصد تک گر گئی ہے۔ عالمی خبر رساں ادارے رائٹرز کی جانب سے کیے گئے تازہ ترین سروے میں بتایا گیا ہے کہ صدر ٹرمپ کے بعض متنازعہ فیصلوں اور معاشی پالیسیوں نے امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد کو تشویش اور ناخوشی میں مبتلا کر دیا ہے۔
رائٹرز سروے کے مطابق آزاد ووٹرز کے سیاسی رجحانات میں بڑا تحرک دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں آزاد ووٹرز میں سے 36 فیصد نے واضح طور پر کہا ہے کہ وہ آنے والے وسط مدتی انتخابات میں ڈیموکریٹکس کا ساتھ دیں گے اور انہیں ووٹ دیں گے۔ اس کے برعکس محض 22 فیصد آزاد ووٹرز کا کہنا ہے کہ وہ ریپبلکن امیدوار کی حمایت میں اپنا ووٹ کاسٹ کریں گے۔
مقبولیت میں کمی کی بنیادی وجوہات:
سروے کے مندرجات میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ امریکی صدر کی مقبولیت میں اس نمایاں اور تاریخی کمی کی دو سب سے بڑی اور اہم وجوہات ایران کے ساتھ جنگی صورتحال اور ملک کی معاشی پالیسیاں ہیں۔ ان دونوں عوامی نوعیت کے ایشوز نے ٹرمپ انتظامیہ کی سیاسی پوزیشن پر گہرا اثر مرتب کیا ہے اور عوام میں شدید بے چینی پیدا کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے ایران کیخلاف ایٹمی ہتھیار استعمال کرنے کا امکان مسترد کر دیا
مہنگائی اور روز مرہ اخراجات پر عوامی عدم اطمینان:
معاشی محاذ پر عوام کی طرف سے شدید ردعمل دیکھا جا رہا ہے اور سروے میں بتائے گئے اعداد و شمار کے مطابق 71 فیصد امریکی ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مہنگائی کے دباؤ اور عام شہریوں کے روز مرہ اخراجات سے نمٹنے کے مجموعی طریقۂ کار اور پالیسیوں سے مکمل طور پر ناخوش نظر آتے ہیں۔
ڈیموکریٹس کے لیے خوش آئند پیش رفت:
آنے والے نومبر کے مڈ ٹرم انتخابات سے ٹھیک پہلے ڈونلڈ ٹرمپ کی اس طرح مسلسل گرتی ہوئی مقبولیت نے امریکی سیاست کا منظرنامہ تبدیل کر دیا ہے۔ صدر کی عوامی مقبولیت میں اس ریکارڈ کمی پر حزبِ مخالف کی جماعت ڈیموکریٹس کے خیمے میں خوشی کا ماحول ہے اور وہ اسے انتخابات میں اپنی کامیابی کے ایک بڑے موقع کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔




