بنگلا دیش نے پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے مشترکہ دفاعی و اقتصادی فریم ورک میں شمولیت کا اشارہ دے دیا ہے۔ بنگلا دیشی حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد قومی مفادات اور عالمی تجارتی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے باہمی تعلقات کو وسعت دینا ہے۔
بنگلا دیشی خبر ایجنسی سے گفتگو کرتے ہوئے بنگلا دیشی وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور ہمایوں کبیر نے انکشاف کیا کہ ان کا ملک سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے درمیان قائم ہونے والے اقتصادی یا دفاعی فریم ورک کا حصہ بننے کے امکانی پہلوؤں پر انتہائی مثبت اور سازگار رویہ رکھتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ عالمی تناظر میں خطے کے ممالک کے ساتھ تعاون بڑھانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
قومی مفادات اور عالمی معیشت کے تناظر میں فیصلے:
ہمایوں کبیر کا مزید کہنا تھا کہ اس دفاعی و اقتصادی معاملے میں بنگلا دیش اپنے اعلیٰ ترین قومی مفادات، عالمی معیشت کے موجودہ رجحانات اور بین الاقوامی تجارت میں مسلسل رونما ہونے والی بدلتی صورتحال کو بنیادی ترجیح کے طور پر مدنظر رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے مفادات کی حفاظت اور تجارتی وسعت کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے پر ڈونلڈ ٹرمپ کی حمایت؛ وزیراعظم شہباز شریف کا پرجوش خیرمقدم
پاکستان کے ساتھ سفارتی و تجارتی تعلقات کی استواری:
مشیر خارجہ امور نے پاکستان کے ساتھ تعلقات پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ پاکستان کے ساتھ معمول کی سفارتی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری ہے اور انہی کے تحت دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ عملی تعلقات کو پائیدار اور مضبوط بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت پاکستان کے ساتھ باہمی تجارت کو فروغ دینے اور دونوں ممالک کے عوامی روابط کو مزید بڑھانے اور استوار کرنے کے لیے عملی سطح پر کام جاری ہے۔
وزیراعظم طارق رحمان کا دورہ سعودی عرب:
بنگلا دیشی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، سعودی ولی عہد کی جانب سے دیے گئے مخصوص دعوت نامے پر بنگلا دیشی وزیراعظم طارق رحمان جلد ہی سعودی عرب کا سرکاری دورہ کریں گے، جس سے خطے کی سفارتی اور دفاعی صورتحال میں مزید پیش رفت کی توقع کی جا رہی ہے۔




