پاکستان اور انگلینڈ کا پہلے ٹیسٹ میں انوکھا واقعہ، گیند درمیان سے کاٹ کر 2 حصوں میں تقسیم کر دی گئی

انگلینڈ اور پاکستان کے درمیان کھیلے جا رہے لیڈز ٹیسٹ میں ایک انتہائی منفرد اور حیران کن واقعہ اس وقت پیش آیا جب میچ میں استعمال ہونے والی گیند کو درمیان سے باقاعدہ کاٹ کر دو برابر حصوں میں بانٹ دیا گیا۔ تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کے اس پہلے مقابلے کی پہلی اننگز میں پاکستان کو 171 رنز پر ڈھیر کرنے کے بعد انگلینڈ کی ٹیم نے گیند کے دو ٹکڑے کرنے کی یہ انوکھی روایت قائم کی۔

روایتی اصول اور دو فاسٹ بولرز کا مشترکہ کارنامہ:

کرکٹ میں عمومی طور پر یہ طریقہ کار دیکھا گیا ہے کہ ایک اننگز کے دوران پانچ یا اس سے زائد وکٹیں حاصل کرنے والا بولر ہی اس میچ کی گیند کو اپنی یادگار کے طور پر محفوظ رکھتا ہے۔ تاہم اس میچ میں پاکستان کی پہلی اننگز کے دوران انگلینڈ کے فاسٹ بولر اولی رابنسن اور جوش ٹنگ دونوں نے ہی شاندار اور غیر معمولی بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 5،5 وکٹیں اپنے نام کیں۔ کسی ایک ہی اننگز میں دو فاسٹ بولرز کا یوں مل کر تمام وکٹیں بانٹنا انتہائی کم دیکھنے میں آتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان ،سری لنکا اور انگلینڈ کرکٹ کی ٹرائی سیریز کا شیڈول جاری

گیند کو دو حصوں میں کاٹنے کا خيال کیسے آیا؟

پاکستان کی اننگز کا اختتام ہونے کے بعد جوش ٹنگ نے اپنے ساتھی بولر اولی رابنسن کے سامنے گیند کے دو ٹکڑے کرنے کا ایک بالکل نیا اور الگ آئیڈیا رکھا۔ اولی رابنسن نے اس واقعے کی تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ جب وہ دونوں میدان سے باہر جا رہے تھے تو جوش ٹنگ نے ان سے کہا کہ ہمیں اس گیند کو آدھا آدھا تقسیم کر لینا چاہیے۔ اس پر انہوں نے بھی فوراً رضامندی ظاہر کی کہ یہ طریقہ واقعی زبردست رہے گا۔

ڈریسنگ روم اور گراؤنڈ اسٹاف کا کردار:

اس خیالمندانہ گفتگو کے بعد جوش ٹنگ نے ڈریسنگ روم پہنچ کر گراؤنڈ اسٹاف سے رابطہ کیا اور ان سے پوچھا کہ کیا میچ کی اس گیند کو بیچ میں سے کاٹ کر دو حصے بنانا ممکن ہے؟ اولی رابنسن کے مطابق کچھ ہی دیر کے اندر گراؤنڈ اسٹاف سب کو حیران کرتے ہوئے گیند کے دو برابر ٹکڑے کر کے لے آیا۔ انگلش بولر کا مزید کہنا تھا کہ کرکٹ کی ایسی آدھی گیند انسان کو بار بار نہیں ملتی، اسی لیے یہ ان دونوں کے لیے ایک ایسی تاریخی اور نا قابلِ فراموش یادگار بن چکی ہے جسے وہ کبھی نہیں بھولیں گے۔

میچ کی صورت حال اور پاکستان کی ناکامی:

اگر اس میچ کے احوال پر نظر ڈالی جائے تو تین ٹیسٹ میچوں پر مشتمل سیریز کے پہلے ہی مقابلے کی پہلی اننگز میں قومی ٹیم کا بیٹنگ لائن اپ انگلش اٹیک کے سامنے مکمل طور پر بکھر گیا۔ پوری پاکستانی ٹیم محض 48.1 اوورز کا سامنا کرتے ہوئے صرف 171 رنز کے مجموعے پر ڈھیر ہو گئی۔ اس معمولی ہدف کے جواب میں انگلینڈ نے پہلے دن کا کھیل ختم ہونے تک اپنی پہلی اننگز میں 2 وکٹوں کے نقصان پر 112 رنز بنا لیے تھے۔

مزید پڑھیں: چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا حکومت سے ہر قسم کا تعاون معطل کرنے کا بڑا اعلان