چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا حکومت سے ہر قسم کا تعاون معطل کرنے کا بڑا اعلان

پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے وفاقی حکومت کے ساتھ ہر قسم کے تعاون کو باقاعدہ معطل کرنے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک پارٹی کے تمام تحفظات کا مکمل اور عملی خاتمہ نہیں کیا جاتا، اس وقت تک پیپلز پارٹی وفاقی حکومت کے ساتھ کسی بھی معاملے میں کسی قسم کے تعاون کے موڈ میں بالکل بھی نہیں ہے۔

حکومت کے ساتھ تعاون کے معاملے پر موقف:

بلاول بھٹو زرداری نے واضح اور حتمی الفاظ میں بیان دیا ہے کہ جب تک ان کی پارٹی کے تمام بنیادی تحفظات کو سنجیدگی سے دور نہیں کیا جاتا، تب تک وہ حکومت کے ساتھ آئندہ کسی بھی قسم کی معاونت یا اشتراک کے لیے قطعی طور پر تیار نہیں ہیں۔ انہوں نے صریحاً کہا کہ تحفظات کا ازالہ ہی آئندہ کی پیش رفت کی شرط ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں حکومت سازی کا عمل تیز: 27 اگست کو وزیرِ اعظم کا انتخاب متوقع

ان ہاؤس تبدیلی اور آئینی ترمیم:

پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اس بات کی بھی مکمل وضاحت کی کہ فی الوقت ان کی تمام تر توجہ ان ہاؤس تبدیلی یا حکومت بدلنے جیسے کسی معاملے پر بالکل نہیں ہے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے یہ حقیقت بھی سامنے رکھی کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق کسی قسم کی آئینی یا قانون ساز ترمیم کا کوئی بھی نقطہ باضابطہ طور پر سامنے نہیں آ سکا ہے۔

آزاد کشمیر کے انتخابات پر موقف:

آزاد کشمیر میں ہونے والے حالیہ انتخابات کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ وہاں کے انتخاب میں شدید دھاندلی کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ اگر آزاد کشمیر کے الیکشن چند مختلف مراحل کے بجائے صرف ایک ہی مرحلے میں مکمل کروا دیے جاتے تو بلاشبہ وہاں پاکستان پیپلز پارٹی کی ہی حکومت تشکیل پاتی۔

آئندہ کی سیاسی حکمت عملی:

بلاول بھٹو زرداری کا یہ اعلان ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ پیپلز پارٹی کے اس نئے اور حتمی موقف کے بعد اب وفاقی حکومت کی جانب سے تحفظات کے ازالے اور معطل شدہ تعاون کی بحالی کے لیے آئندہ کے لائحہ عمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔

مزید پڑھیں: عمران خان کے علاج سے متعلق سپریم کورٹ کے حکم پر حکومت کا ردعمل آگیا