رومی کشمیر کی تصنیف سیف الملوک کے10ہزار اشعار کا اردو ترجمہ ،کتاب شائع

پاکستان کے معروف شاعر انور مسعود نے پنجابی کے معروف صوفی شاعر،رومی کشمیر میاں محمد بخشؒ کی شہرہ آفاق تصنیف سیف الملوک کے 10 ہزار اشعار کا اردو ترجمہ کیا ہے۔

وی نیوز کے مطابق میاں محمد بخش کی سیف الملوک کے 10 ہزار اشعار پر مشتمل اردو ترجمے کی کتاب (19 اگست کو) شائع کئی گئی ہے جو 2 جلدوں پر مشتمل ہے۔

کتاب کے مصنف انور مسعود نے کہاکہ اس وقت ان کے سامنے جو کتاب موجود ہے، اس کا نام ’سیف الملوک‘ ہے، جو میاں محمد بخش کی مشہور پنجابی تصنیف ہے۔

انہوں نے کہاکہ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے میاں محمد بخش کی اس شہرۂ آفاق کتاب کا اردو نثر میں ترجمہ کیا ہے۔

انور مسعود نے کہاکہ جہلم بک کارنر کے امر شاہد اور ان کی ٹیم نے اس کتاب کو بڑی محنت اور خوبصورتی کے ساتھ شائع کیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:فرانسیسی صدر کو اہلیہ نے تھپڑ کیوں مارا؟کتاب میں حیران کن انکشاف 

انہوں نے کتاب کی اشاعت پر بک کارنر کے منتظمین کو دلی مبارکباد بھی پیش کی۔

دوسری جانب انور مسعود کے فرزند معروف صحافی و اینکر پرسن عمار مسعود نے اپنے پیغام میں کہاکہ آج کا دن ان کے لیے بہت خوشی کا باعث ہے، کیونکہ ان کے والد کی وہ کتاب، جسے وہ اپنی سب سے بڑی ادبی کامیابی سمجھتے ہیں، آج شائع ہوگئی ہے۔ یہ ترجمے کا ایک اہم کام ہے۔

عمار مسعود نے کہاکہ پنجاب کے معروف صوفی شاعر میاں محمد بخش کی شہرہ آفاق تصنیف سیف الملوک کے 10 ہزار اشعار کا اردو ترجمہ اس کتاب میں شامل ہے۔

ابو نے یہ کام مکمل کرنے میں 3 سال صرف کیے اور ان 3 برسوں کی محنت پر انہیں بے حد فخر ہے۔

یا درہے کہ میاں محمد بخش کا مزار ضلع میرپور کے علاقے کھڑی شریف میں ہے ۔ ان کے آباؤ اجداد کا تعلق ضلع گجرات کے چک بہرام سے بتایا جاتا ہے جہاں سے ان کا خاندان میرپور کے علاقے میں آ کر آباد ہوا۔

میاں محمد بخشؒ پنجابی کے عظیم صوفی شاعر تھے اور ان کی سب سے مشہور تصنیف سیف الملوک ہے۔ انہیں محبت سےرومی کشمیربھی کہا جاتا ہے۔