سونے کی قیمتیں آسمان پر ! صرف چار روز میں فی تولہ سونا 29 ہزار روپے مہنگا

پاکستان میں سونے کی قیمت نے ایک بار پھر بڑی اڑان بھر لی ہے، جس نے سونا خریدنے والوں اور سرمایہ کاروں کے ہوش اڑا دیے ہیں۔ مقامی صرافہ مارکیٹ میں صرف چار دن کے مختصر عرصے کے دوران فی تولہ سونے کی قیمت میں تقریباً 29 ہزار روپے کا ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت 4 لاکھ 56 ہزار 536 روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ 5 اگست سے لے کر اب تک فی تولہ سونا 28 ہزار 600 روپے مہنگا ہو چکا ہے، جس کے بعد مارکیٹ میں سونے کے مستقبل کے نرخوں پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔

روزانہ کی بنیاد پر سونے کا اضافہ اور چاندی کا رجحان:

آل پاکستان جیمز اینڈ جیولرز صرافہ ایسوسی ایشن کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ روز فی تولہ سونے کی قیمت میں 2,200 روپے کا اضافہ ہوا، جس سے ریٹ 456,536 روپے تک جا پہنچا۔ اسی طرح 10 گرام سونے کی قیمت بھی 1,887 روپے کے اضافے کے بعد 391,406 روپے ریکارڈ کی گئی۔ اس سے قبل جمعہ کے روز بھی سونے کی فی تولہ قیمت میں 5,100 روپے کا بڑا اضافہ دیکھا گیا تھا جس سے قیمت 454,336 روپے ہوئی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: فی تولہ سونے کی قیمت 4 لاکھ 54 ہزار روپے سے تجاوز

دوسری جانب، چاندی کی قیمت میں برعکس رجحان دیکھا گیا۔ ہفتے کے روز فی تولہ چاندی 113 روپے سستی ہو کر 6,826 روپے کی سطح پر آ گئی۔ یوں ہفتے کے اختتام پر سونے میں زبردست تیزی اور چاندی میں کمی نے قیمتی دھاتوں کی مارکیٹ میں ایک متضاد صورتحال پیدا کر دی ہے۔

عالمی مارکیٹ کے اثرات اور ماہرین کا تجزیہ:

پاکستان کی طرح بین الاقوامی مارکیٹ میں بھی سونے کے نرخوں میں مسلسل تیزی درج کی جا رہی ہے۔ عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت 22 ڈالر کے اضافے کے بعد 4,341 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مارکیٹ میں تبدیلیاں، امریکی ڈالر کے مقابلے روپے کی قدر اور مقامی سطح پر طلب جیسے عوامل براہِ راست پاکستان میں سونے کی قیمتوں پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔

اس تیزی سے جہاں سونا رکھنے والوں کے اثاثوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، وہاں نئے خریداروں کے لیے خریداری مزید مشکل اور مہنگی ہو چکی ہے۔ ماہرینِ معیشت نے خبردار کیا ہے کہ صرف تیزی دیکھ کر فوری سرمایہ کاری کا فیصلہ کرنے کے بجائے مارکیٹ کے مجموعی رجحان اور اپنی مالی ضرورت کو مدنظر رکھنا ضروری ہے، کیونکہ عالمی و ملکی معاشی عوامل کے باعث مستقبل کی قیمتوں کے بارے میں حتمی پیش گوئی ممکن نہیں۔