پاکستان اور قطر کی ثالثی میں مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں میں ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ امریکا اور ایران نے مذاکرات کی بحالی کے لیے پیش کی گئی نئی تجاویز پر اپنے جوابات پاکستان اور قطر کے حوالے کر دیے ہیں۔
ان تجاویز کا مقصد مشرقِ وسطیٰ میان جاری کشیدگی میں کمی اور فریقین کے درمیان معطل ہونے والے مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کی برطانیہ کو سخت وارننگ، امریکی کارروائی میں تعاون مہنگا پڑ سکتا ہے
عرب نشریاتی ادارے العربیہ کے مطابق امریکا اور ایران نے پاکستان اور قطر کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز پر اپنے اپنے مؤقف سے ثالث ممالک کو آگاہ کر دیا ہے۔
العریبیہ نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’اسلام آباد میمورنڈم‘ کی روشنی میں امریکا کے ساتھ جنیوا، دوحہ یا اسلام آباد میں مذاکرات جاری رکھنے کے لیے تیار ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران مذاکرات میں پہلے آبنائے ہرمز، اس کے بعد اپنے منجمد اثاثوں اور آخر میں اپنے جوہری پروگرام پر بات چیت کا خواہاں ہے، تاہم وہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی نئی بحری راہداری کے قیام کو مسترد کرتا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مسلسل دوسری رات بھی امریکا کی جانب سے ایران پر حملے نہیں کیے گئے اور نہ ہی ایران کی جانب سے خطے میں موجود امریکی اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان محمد اکرمی نیا نے تصدیق کی ہے کہ امریکا نے گزشتہ دو راتوں کے دوران ایران پر حملے نہیں کیے۔ ان کا کہنا تھا ’چوں کہ ہماری حکمت عملی بنیادی طور پر جوابی ردعمل پر مبنی ہے، اس لیے ہم نے بھی اپنی فوجی کارروائیاں روک رکھی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:ایران کیخلاف امریکی بحری ناکہ بندی تاحال مکمل طور پر نافذ ہے، سینٹ کام
دوسری جانب اقوام متحدہ میں امریکا کے سفیر مائیک والٹز نے بھی حملے عارضی طور پر روکنے اور سفارتی کوششوں کو موقع دینے کا اشارہ دیا ہے۔
مائیک والٹز نے فاکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’صدر ٹرمپ مذاکرات کو کچھ وقت اور گنجائش دے رہے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف حملے عارضی طور پر روکنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جا سکے۔
العریبیہ کے مطابق پاکستان اور قطر نے گزشتہ ہفتے امریکا اور ایران کے درمیان 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی تجویز پیش کی تھی تاکہ خطے میں جاری کشیدگی میں کمی اور دونوں فریق دوبارہ مذاکرات کی میز پر واپس آ سکیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان اور قطر کے علاوہ دیگر ممالک نے بھی واشنگٹن اور تہران کو 10 روزہ عارضی جنگ بندی کی ایک نظرثانی شدہ تجویز پیش کی ہے۔ ذرائع کے مطابق اس تجویز کی دو بنیادی شرائط میں دونوں جانب سے حملے روکنے اور آبنائے ہرمز میں آزاد جہاز رانی کی بحالی شامل ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کے تحت عمانی سمندری حدود میں واقع جنوبی بحری راستہ ایرانی حملوں سے محفوظ ہوگا جب کہ ایرانی سمندری حدود میں واقع شمالی بحری راستے پر امریکی بحری ناکہ بندی نہیں ہوگی۔
یہ بھی پڑھیں:امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا چوتھی بار صدارتی الیکشن لڑنے کی خواہش کا اظہار
رپورٹ کے مطابق 10 روزہ عارضی جنگ بندی کا مقصد دونوں ممالک کو آبنائے ہرمز میں جہاز رانی سے متعلق ڈیڈلاک کے مستقل حل کے لیے بات چیت کے لیے وقت فراہم کرنا ہے۔
یہی وہ معاملہ ہے جسے پاکستان کی ثالثی میں گزشتہ ماہ دونوں ممالک کے درمیان مفاہمتی یادداشت (اسلام آباد میمورنڈم) کے معطل ہونے کی بنیادی وجہ قرار دیا گیا تھا۔




