کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے رکن خواجہ مہران کے خلاف ان کے سابق ساتھیوں فاروق اور ظہیر عباس کی جانب سے بدسلوکی، منشیات کے استعمال اور دھرنے کے شرکاء کو زبردستی روکنے کے سنگین الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
ان کے سابق ساتھیوں فاروق اور ظہیر عباس نے ایک ویڈیو پیغام میں الزام لگایا کہ خواجہ مہران کے کیمپ میں آئس اور چرس جیسے نشے کا استعمال عام ہے اور وہاں لڑکوں کے ساتھ بدفعلی کی جاتی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ دھرنے میں شامل افراد کی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی چابیاں قبضے میں لے کر انہیں زبردستی روکا جا رہا ہے، جبکہ واپس جانے کے خواہمشند افراد کو پولیس گرفتاری اور جیل کا خوف دلا کر ٹھہرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
پولیس چھاپے میں اسلحہ، ڈیجیٹل ڈیوائسز اور اہم ثبوت برآمد:
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پولیس نے کالعدم جے اے اے سی رکن خواجہ مہران کے گھر پر چھاپہ مار کر اسلحہ، ڈیجیٹل ڈیوائسز اور دیگر اشیاء ضبط کر لی ہیں۔ اس آپریشن کے بعد ایسی ویڈیوز بھی سامنے آئی ہیں جن میں خواجہ مہران کے بھائیوں کو اسلحہ استعمال کرتے اور ٹارگٹ پریکٹس کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر جموں کشمیر کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے متعلق گردش کرتی خبریں سراسر جھوٹ پر مبنی
پولیس حکام نے گھر پر چھاپے کے دوران ایک لیپ ٹاپ، خواجہ مہران کا زیرِ استعمال آئی پیڈ اور کچھ یو ایس بی ڈرائیوز اپنے قبضے میں لیں، جن کی سائنسی اور فارنزک تفتیش کا عمل اس وقت جاری ہے تاکہ ثبوت اکٹھے کیے جا سکیں۔
یو ایس بیز سے تصاویر، ویڈیوز اور بلیک میلنگ کے ثبوت برآمد:
یو ایس بیز کے ابتدائی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ ان میں دھرنے سے پہلے کی تیاریوں کی تصاویر اور ویڈیوز، نیز خواجہ مہران کی اسلحے کے ساتھ تصاویر موجود ہیں جن کے بارے میں بعد میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ اسلحہ ایمبولینسز کے ذریعے منتقل کیا گیا تھا۔ اس کے علاوہ خواجہ مہران کے بھائی حجران عرف جانی سے منسوب اعتراض جوگ ویڈیو مواد بھی یو ایس بی سے برآمد ہوا ہے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق مذکورہ ڈیٹا میں متعدد خواتین کی قابلِ اعتراض ویڈیوز اور ریکارڈ شامل ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ خواجہ مہران اور حجران کی جانب سے خواتین کو ہراساں کرنے اور بلیک میل کرنے کے واضح شواہد بھی ملے ہیں۔
مقدمہ درج، فارنزک تفتیش اور مزید تحقیقات جاری
پولیس نے تمام ڈیجیٹل ریکارڈز اور دیگر تمام ثبوت اپنے قبضے میں لے لیے ہیں، جبکہ خواجہ مہران، حجران اور جانی کے خلاف باقاعدہ مقدمہ درج کر کے مزید تفتیش کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
ذرائع نے رپورٹ کیا ہے کہ کیس کی تفتیش مسلسل جاری ہے اور ضبط شدہ اشیاء کی فارنزک تجزیے کا عمل مکمل ہونے کے بعد مزید اہم معلومات سامنے آنے کی توقع ہے۔




