حکومت کا بڑا تحفہ! “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام” کا اہم اعلان

حکومت پاکستان نے ایسے تمام شہریوں کے لیے ایک بڑی اور خوش آئند اسکیم کا اعلان کیا ہے جن کے نام پر پہلے سے کوئی ذاتی رہائشی مکان موجود نہیں ہے۔ “وزیراعظم اپنا گھر پروگرام، گھر ہو تو اپنا” کا بنیادی مقصد متوسط اور کم آمدنی والے خاندانوں کے لیے ذاتی گھر کے خواب کو حقیقت بنانا، ملک میں ایک کروڑ سے زائد گھروں کی کمی کو پورا کرنا اور تعمیراتی شعبے کو متحرک کر کے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینا ہے۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے تمام کمرشل اور مائیکروفنانس بینکوں کو واضح ہدایات جاری کی ہیں کہ پہلی بار گھر خریدنے کے خواہشمند اور بغیر ذاتی مکان والے شہریوں کو ترجیحی بنیادوں پر سبسڈی یافتہ ہاؤسنگ قرض فراہم کیے جائیں۔ اس بات کا اعلان اسٹیٹ بینک کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اسلامک فنانس گروپ غلام محمد عباسی نے ایک خصوصی ورکشاپ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت پنجاب کا گھر کی مرمت یا چھت کیلئے 5سے 10 لاکھ تک دینے کا اعلان

درخواست دہندگان کی اہلیت، اوورسیز اور پیشہ ورانہ آزادی:

غلام محمد عباسی کے مطابق، اس اسکیم کے تحت 65 سال تک کی عمر کا کوئی بھی شخص درخواست دے سکتا ہے۔ اگر درخواست گزار کی عمر اس سے زیادہ ہو، تو وہ اپنے بچوں یا ملازمت پیشہ افراد کے ساتھ مشترکہ درخواست جمع کرا سکتا ہے۔ اس اسکیم میں پیشے کی کوئی قید نہیں؛ صحافی، وکلا، ججز، اساتذہ، سرکاری و نجی ملازمین، فوجی اہلکار، تاجر اور مزدور سبھی اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ، بیرون ملک مقیم (اوورسیز) پاکستانی بھی ہاؤسنگ فنانس حاصل کرنے کے اہل ہوں گے۔ ادائیگی کی صلاحیت کو بہتر بنانے کے لیے ایک قرض کے لیے زیادہ سے زیادہ چار افراد مشترکہ طور پر بھی درخواست دے سکتے ہیں۔

آمدنی کی شرائط، قسط کی حد اور آسان ضوابط:

اسکیم میں تنخواہ دار اور بغیر پے سلپ والے تمام افراد کو شامل کیا گیا ہے اور ماہانہ آمدنی کی کوئی مخصوص حد نہیں رکھی گئی۔ تاہم، قرض کی منظوری ادائیگی کی صلاحیت کو دیکھ کر دی جائے گی اور ماہانہ قسط درخواست گزار کی کل آمدن کے 65 فیصد سے زیادہ نہیں ہوگی۔

قرض کے درخواست دہندگان کی سہولت کے لیے بینکوں کو کسی بھی قسم کی پروسیسنگ فیس وصول نہ کرنے کا پابند کیا گیا ہے۔

سبسڈی، قرض کی حد اور آسان سود/منافع کی شرح:

حکومتِ پاکستان نے مالی سال 2026-27 کے لیے ڈیڑھ لاکھ (150 ہزار) ہاؤسنگ قرضے جاری کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جس کی فراہمی کے لیے 71 ارب روپے کی بھاری سبسڈی مختص کی گئی ہے۔ اس اسکیم کے تحت شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ایک کروڑ روپے تک کا قرض حاصل کرنے کی سہولت دی جائے گی، جس پر پہلے 10 سال تک صرف 5 فیصد کی رعایتی شرح منافع لاگو ہوگی۔ مزید برآں، اگر قرض کی کل مدت 20 سال پر محیط ہو تو پہلے دہائی کے بعد آخری 10 سال کے لیے سود یا منافع کی شرح مارکیٹ کے مروج ریٹ کے مطابق وصول کی جائے گی۔

جاری کردہ قرضوں کے اعداد و شمار اور آن لائن پورٹل:

اسٹیٹ بینک کے مطابق مارچ 2025 سے اب تک 107,000 سے زائد درخواستیں موصول ہو چکی ہیں، جن میں سے 27,000 سے زائد منظوری کے مراحل طے کر چکی ہیں۔ 30 جون 2026 تک 6,000 سے زائد قرضے تقسیم کیے جا چکے ہیں، جن کا اوسط حجم 48 لاکھ روپے رہا اور مجموعی طور پر 26 ارب روپے سے زائد رقم تقسیم کی گئی۔

عوام کو مزید سہولت فراہم کرنے کے لیے حکومت جلد ایک خصوصی آن لائن پورٹل متعارف کرائے گی، جس سے درخواست کا عمل مزید شفاف اور تیز ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ بینکوں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے ابتدائی 10 فیصد نقصانات برداشت کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے، جس سے ہاؤسنگ سیکٹر کی ترقی میں تیزی آئے گی۔