پاکستان گڈز ٹرانسپورٹ الائنس نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں گڈز ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں 15 فیصد اضافے کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ ٹرانسپورٹرز کے مطابق حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد مال بردار گاڑیوں کے کرایوں میں یہ فوری اضافہ ناگزیر ہو چکا تھا۔
الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے حالیہ صورتحال پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے حکومت سے ٹول ٹیکس اور ود ہولڈنگ ٹیکس فوری طور پر واپس لینے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ آپریٹنگ اخراجات میں مسلسل اضافے کے باوجود ٹرانسپورٹ کے شعبے کو حکومت کی جانب سے کوئی ریلیف فراہم نہیں کیا جا رہا۔
حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید:
ٹرانسپورٹ الائنس کے صدر ملک شہزاد اعوان نے ٹول ٹیکس، ود ہولڈنگ ٹیکس اور ٹریفک چالان کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی ناسازگار پالیسیوں کی وجہ سے بہت سے ٹرانسپورٹرز اپنی گاڑیاں کھڑی کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں تازہ ترین اضافے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ موجودہ حالات میں ٹرانسپورٹ کے شعبے کے لیے فوری ریلیف ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: پیٹرولیم پرائس ڈی ریگولیشن پالیسی پر پیٹرول پمپ مالکان کا ردعمل آگیا
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کی تفصیلات:
اس سے قبل وفاقی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر روزانہ کی بنیاد پر نظرثانی کے نئے طریقہ کار کے نفاذ کے بعد، پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں تین روز کے لیے اضافہ کر دیا تھا۔ پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 5 روپے 44 پیسے فی لیٹر جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل (ایچ ایس ڈی) کی قیمت میں 31 روپے 5 پیسے فی لیٹر کا بڑا اضافہ کیا گیا ہے۔
اس حالیہ اضافے کے بعد ملک بھر میں پیٹرول کی نئی قیمت 316 روپے 15 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل کی نئی قیمت 354 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اوگرا کے نوٹیفکیشن کے مطابق مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی 34 روپے 33 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد مٹی کے تیل کی نئی قیمت 276 روپے 66 پیسے فی لیٹر مقرر ہو گئی ہے۔
نئے نرخوں کا اطلاق اور ماضی کا جائزہ:
نوٹیفکیشن میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایندھن کی ان نئی قیمتوں کا اطلاق ہفتہ 18 جولائی سے ہو گیا ہے اور یہ قیمتیں 20 جولائی تک لاگو رہیں گی۔ اس سے قبل ہونے والے ہفتہ وار جائزے میں حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 13 روپے 18 پیسے اور 13 روپے 80 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کیا تھا، جس سے قیمتیں بالترتیب 310 روپے 71 پیسے اور 323 روپے 30 پیسے ہو گئی تھیں۔
ایندھن کی ان قیمتوں میں یہ ترامیم وفاقی حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کے نرخوں کے روزانہ کی بنیاد پر جائزے کے طریقہ کار کو نافذ کرنے کے بعد کی گئی ہیں۔ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے بتایا کہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) اب روزانہ عالمی مارکیٹ کے مطابق ایندھن کی قیمتوں کا تعین کرے گی اور انہیں اپنی ویب سائٹ پر اپ ڈیٹ کرے گی۔
مزید پڑھیں: عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں کئی ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں
وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم علی پرویز ملک نے مزید کہا کہ کابینہ نے ایندھن کی قیمتوں کے پورے نظام میں مکمل شفافیت لانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اوگرا اب صرف اپنی ویب سائٹ پر ایندھن کے نرخ ہی شائع نہیں کرے گی، بلکہ ان تمام عوامل کو بھی واضح کرے گی جن کی وجہ سے پیٹرول پمپوں پر یہ قیمتیں سامنے آتی ہیں۔




