کالعدم ایکشن کمیٹی کی ہڑتالوں پر عوامی تشویش، آزاد کشمیر میں ٹورازم انڈسٹری کو کروڑوں کا نقصان

وادی لیپہ سمیت آزاد کشمیر کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے عوام کا کہنا ہے کہ کالعدم ایکشن کمیٹی کی ہڑتالوں کے باعث مقامی ٹورازم انڈسٹری کو کروڑوں روپے کا بھاری معاشی نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ عوام کے مطابق ان مسلسل ہڑتالوں کے نتیجے میں نہ صرف آزاد کشمیر کی مجموعی ٹورازم انڈسٹری بری طرح مفلوج ہو کر رہ گئی ہے بلکہ اس شعبے سے روزگار کمانے والا متوسط طبقہ بھی شدید مالی بحران کا شکار ہو چکا ہے۔

عوامی حلقوں کا مؤقف ہے کہ گرمیوں کا سیزن دراصل یہاں کی ٹورازم کا پیک سیزن ہوتا ہے جس پر مقامی معیشت کا دارومدار ہوتا ہے، لیکن ان حالات کی وجہ سے کاروبار زندگی معطل ہو گیا ہے۔ شہریوں نے شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیاحت کے اس عروج کے وقت میں سرگرمیاں رک جانے سے گاڑیوں کے مالکان اور دیگر چھوٹے کاروباریوں کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے جارہے ،12 نشستوں کا معاملہ اسمبلی لے جائیں،رانا ثنا

پیک سیزن پر لاک ڈاؤن کے اثرات پر عوامی ردعمل:

عوام کا کہنا ہے کہ سیاحت کے لیے سب سے موزوں اور پیک ٹائم پر آزاد کشمیر میں ٹورازم پر ایک طرح سے لاک ڈاؤن نافذ کر دیا گیا ہے جس سے بڑے پیمانے پر معاشی تباہی ہو رہی ہے۔ مقامی آبادی کے مطابق سیاحوں کی آمد و رفت مکمل طور پر رک جانے کی وجہ سے وہ تمام شعبے شدید ترین مالی خسارے سے دوچار ہیں جن کا پورا انحصار سیاحتی سیزن پر تھا۔

آزاد کشمیر کے معاشی نقصان پر عوام کی رائے:

اس تمام تر صورتحال پر عوام کی متفقہ رائے سامنے آئی ہے کہ ان ہڑتالوں کی وجہ سے آزاد کشمیر کو مجموعی طور پر بے پناہ مالی اور معاشی نقصان پہنچ رہا ہے۔ عوام نے واضح کیا ہے کہ سیاحت کے سیزن کے دوران اس قسم کے تعطل اور لاک ڈاؤن جیسے حالات سے نہ صرف متوسط طبقے کا روزگار چھن رہا ہے بلکہ علاقے کی معاشی حالت بھی تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے۔

مزید پڑھیں: شکست کھا گیا تو کبھی الیکشن نہیں لڑوں گا، فیصل راٹھور کا اعلان