امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی شدید جیو پولیٹیکل کشیدگی کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 87 ڈالر سے اوپر چلی گئی ہے جبکہ اس کے برعکس دنیا بھر کی اسٹاک مارکیٹوں میں شدید مندی کا رجحان دیکھنے میں آ رہا ہے۔ جمعے کے روز عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں تقریباً 4 فیصد کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ دنیا کی بڑی معیشتوں کی اسٹاک مارکیٹیں مندی کا شکار ہو کر گر گئیں۔
تیل کی قیمتوں میں ہونے والا یہ حالیہ اضافہ پاکستان میں مہنگائی کو مزید تیز کر سکتا ہے اور ملکی کرنسی روپے سمیت عوامی مالیات (پبلک فائنانسز) پر دباؤ کو مزید شدید کر سکتا ہے۔ اس جیو پولیٹیکل تنازعے کی وجہ سے پڑوسی ملک بھارت میں بھی سرمایہ کار انتہائی محتاط ہو گئے ہیں جس کی وجہ سے کاروباری سرگرمیاں متاثر ہو رہی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں تنازع اور حملوں کی تفصیلات:
اس شدید ترین کاروباری محتاط پن کی بنیادی وجہ امریکا کی جانب سے ایران پر کیے گئے نئے فوجی حملے اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور شام میں قائم امریکی فوجی تنصیبات پر کیے گئے جوابی حملے تھے۔ ان فوجی حملوں کے باعث مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے مزید پھیلنے اور عالمی توانائی کی فراہمی میں ممکنہ طور پر بڑی رکاوٹیں پیدا ہونے کے خدشات میں تیزی سے اضافہ ہو گیا۔
یہ بھی پڑھیں: روس سے تیل کی خریداری :بھارت پر100فیصد ٹیرف عائد، امریکی سینیٹ میں تاریخی بل پیش
مختلف اقسام کے خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ:
عالمی منڈی کے اعداد و شمار کے مطابق بین الاقوامی مارکیٹ میں برینٹ خام تیل کی قیمت 3.10 ڈالر یا 3.68 فیصد اضافے کے ساتھ 87.33 ڈالر فی بیرل پر پہنچ گئی ہے، جو کہ گزشتہ کئی ماہ کے دوران اس کی بلند ترین سطح ہے۔ دوسری جانب، امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل کی قیمت بھی 3.14 ڈالر یا 3.98 فیصد اچھال کے ساتھ 82.09 ڈالر فی بیرل کی سطح پر بند ہوئی۔
مارکیٹ کی صورتحال کے مطابق مربان خام تیل 3.91 فیصد کے واضح اضافے کے ساتھ 80.77 ڈالر جبکہ ڈبلیو ٹی آئی مڈلینڈ 3.10 فیصد اضافے کے ساتھ 81.81 ڈالر پر پہنچ گیا ہے، کیونکہ تاجروں نے تیزی سے بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) خطرات کے پیشِ نظر قیمتوں میں اضافہ کیا۔
گیس اور ایل این جی مارکیٹ کے اثرات:
قیمتوں میں تیزی کا یہ رجحان صرف خام تیل تک محدود نہیں رہا بلکہ پورے انرجی کمپلیکس (توانائی کی مارکیٹ) میں پھیل گیا، جس کے نتیجے میں امریکی گیسولین فیوچرز میں 3.86 فیصد اور ڈچ ٹی ٹی ایف نیچرل گیس میں 3.41 فیصد کا نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اسی طرح امریکی نیچرل گیس کی قیمتوں میں 1.01 فیصد اور جاپان-کوریا ایل این جی بینچ مارک میں 0.92 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
توانائی کے شعبے میں یہ اضافہ ان خدشات کے باعث ہوا کہ بڑھتی ہوئی دشمنی آبنائے ہرمز کے راستے تیل اور گیس کی ترسیل کو شدید خطرے میں ڈال سکتی ہے، جو کہ عالمی خام تیل کی تجارت کے تقریباً پانچویں حصے کے لیے ایک انتہائی اہم اور سٹرٹیجک شاہراہ کا درجہ رکھتی ہے۔
وال اسٹریٹ اور یورپی مارکیٹوں کی صورتحال:
تیل کی قیمتوں میں اچانک اس اضافے نے عالمی مالیاتی منڈیوں میں سرمایہ کاری کے محتاط رجحان کو جنم دیا، جس کے باعث سرمایہ کاروں نے حصص سے اپنا سرمایہ نکال کر روایتی محفوظ پناہ گاہ سمجھے جانے والے اثاثوں کا رخ کر لیا۔ امریکی مالیاتی مارکیٹ وال اسٹریٹ کا آغاز شدید مندی کے ساتھ ہوا، جہاں ٹیکنالوجی اور گروتھ اسٹاکس (ترقی پذیری والے حصص) میں گراوٹ کے باعث ایس اینڈ پی 500 ، ناسڈیک کمپوزٹ اور ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج سبھی منفی زون میں ٹریڈ کرتے نظر آئے۔
تاہم، مجموعی مارکیٹ کے برعکس توانائی پیدا کرنے والی کمپنیوں (انرجی پروڈیوسرز) کی کارکردگی بہتر رہی، کیونکہ خام تیل کی بلند قیمتوں نے ان کی آمدنی کے بارے میں توقعات کو بڑھا دیا تھا۔ دوسری جانب، یورپی حصص (ایکویٹیز) میں بھی مندی دیکھی گئی جہاں جرمنی کا ڈیکس اور فرانس کا کیک 40 انڈیکس گر گئے کیونکہ سرمایہ کاروں کو یہ تشویش تھی کہ توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات یورپ کی پہلے سے نازک اقتصادی بحالی پر مزید دباؤ ڈالیں گے۔
برطانوی اور ایشیائی اسٹاک مارکیٹس کا احوال:
اس خطے میں مجموعی مندی کے برعکس، برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس خطے کی دیگر مارکیٹوں کے مقابلے میں بہتر پوزیشن میں رہا، جسے شیل اور بی پی جیسی بڑی تیل کمپنیوں کے حصص میں ہونے والے اضافے سے مدد ملی، جنہیں خام تیل کی قیمتوں میں تیزی سے براہِ راست فائدہ پہنچا تھا۔
پورے ایشیا میں، جاپان کے نکی 225، جنوبی کوریا کے کوسپی اور چین کے بڑے ایکویٹی انڈیکسز میں بھی گراوٹ دیکھی گئی، کیونکہ سرمایہ کار توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں اور بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل (جغرافیائی و سیاسی) غیر یقینی صورتحال کے معاشی اثرات کا جائزہ لے رہے تھے، جبکہ ٹیکنالوجی اور سیمی کنڈکٹر کے حصص سب سے زیادہ نقصان اٹھانے والوں میں شامل رہے۔
بھارت اور پاکستان کی معیشتوں پر پڑنے والے اثرات:
خام تیل کی قیمتوں میں اس اضافے نے تیل درآمد کرنے والی بڑی معیشتوں پر بھی تشویش کے بادل منڈلا دیئے ہیں، جہاں بھارت میں سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں کیونکہ تیل کی بلند قیمتوں سے مہنگائی بڑھنے، ملک کے درآمدی بل میں اضافے اور ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی کے متبادل منظرنامے کے پیچیدہ ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور توانائی کا زیادہ استعمال کرنے والے شعبے دباؤ میں آ گئے ہیں، جس نے مجموعی مارکیٹ میں برتری کے امکانات کو محدود کر دیا۔
پاکستان میں بھی، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو فروخت کے شدید دباؤ کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ سرمایہ کار ملک کے بیرونی کھاتوں پر تیل کی بلند قیمتوں کے اثرات کا جائزہ لے رہے تھے۔ چونکہ پاکستان کا زیادہ تر انحصار درآمدی پیٹرولیم پر ہے، اس لیے 90 ڈالر فی بیرل کے قریب خام تیل کی برقرار رہنے والی قیمتیں درآمدی بل میں اضافہ کر سکتی ہیں، کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو بڑھا سکتی ہیں، مہنگائی کو تیز کر سکتی ہیں اور روپے سمیت عوامی مالیات (پبلک فائنانسز) پر دباؤ کو مزید شدید کر سکتی ہیں۔
مزید پڑھیں:خام تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں، پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل مہنگا ہونے کا امکان
مستقبل کا منظرنامہ اور تجزیہ کاروں کی رائے:
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مارکیٹوں میں اس وقت تک اتار چڑھاؤ برقرار رہنے کا امکان ہے جب تک اس بات پر مزید واضح صورتحال سامنے نہیں آ جاتی کہ آیا یہ تنازعہ محدود رہتا ہے یا ایک وسیع تر علاقائی تصادم میں بدل جاتا ہے۔ خلیج سے تیل کی برآمدات یا آبنائے ہرمز کے ذریعے جہاز رانی کی منتقلی میں کوئی بھی رکاوٹ خام تیل کی قیمتوں کو مزید بڑھا سکتی ہے، جس سے عالمی سطح پر مہنگائی کا دباؤ بڑھے گا اور مالیاتی منڈیوں پر مزید منفی اثر پڑے گا۔




