بھارت کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ کا انتہائی حساس ڈیٹا ڈارک ویب پر لیک، سیکیورٹی پر بڑا سوالیہ نشان

بھارت کی سب سے بڑی جوہری تنصیب، کودانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ سے متعلق انتہائی حساس فائلیں ڈارک ویب پر لیک ہونے کا سنسنی خیز انکشاف ہوا ہے جس نے بھارتی جوہری تنصیبات کی سیکیورٹی پر ایک بہت بڑا سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔ تامل ناڈو میں واقع یہ جوہری پلانٹ بھارت کے جوہری توانائی پروگرام کا ایک انتہائی اہم اور ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والا حصہ ہے۔

عالمی خبر رساں اداروں اور رپورٹس کے مطابق، ‘ورلڈ لیکس’ نامی رینسم ویئر گروپ نے اس حساس ترین ڈیٹا کو ڈارک ویب پر آن لائن شائع کیا ہے۔ ہیکرز کی جانب سے جاری کردہ اس ڈیٹا میں کودانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ کے بعض انتہائی حساس حصوں کے نقشے (بلیو پرنٹس)، سپلائرز کی مکمل تفصیلات، انشورنس دستاویزات اور پاور پلانٹ سے جڑی اہم ترین تکنیکی معلومات شامل ہیں، جن کے افشا ہونے سے بھارت کی جوہری سلامتی کو سنگین خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سابق امریکی صدر براک اوباما کی بھارت کو بڑی وارننگ، ملک کے ٹوٹنے کا خدشہ ظاہر کر دیا

ریلائنس انفراسٹرکچر کے سرور سے ڈیٹا چوری کا انکشاف:

رپورٹس کے مطابق، ہیکرز نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ ڈیٹا ‘رائلنس گروپ’ سے حاصل کیا گیا ہے، جو تامل ناڈو میں واقع اس پاور پلانٹ کے ساتھ بطور ٹھیکیدار منسلک ہے۔

انیل امبانی کی کاروباری سلطنت ‘رائلنس گروپ’ نے غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کو اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ایک تھرڈ پارٹی بھارتی ڈیٹا سینٹر کمپنی ‘یوٹا’ کے سرور پر محفوظ ریلائنس انفراسٹرکچر سے منسلک ڈیٹا میں ایک “جزوی شگاف”واقع ہوا ہے۔ رائلنس گروپ کے مطابق، بھارتی حکومت اس ڈیٹا چوری کے واقعے سے مکمل طور پر باخبر ہے۔ اگرچہ ریلائنس نے پہلے معلومات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا تھا، لیکن اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ چوری ہونے والا ڈیٹا کتنا حساس اور تکنیکی نوعیت کا ہے۔

جوہری پلانٹ کی حفاظت کے لیے سنگین خطرہ:

جوہری سلامتی کی نگرانی کرنے والے اور حکومتوں کو سیکیورٹی امور پر مشاورت فراہم کرنے والے بین الاقوامی ادارے ‘نیوکلیئر تھریٹ انیشیٹو’ کے سینئر ڈائریکٹر نکولس روتھ کا کہنا ہے کہ اگر ہیکرز کے پاس موجود یہ معلومات سو فیصد حقیقت پر مبنی ثابت ہوتی ہیں تو یہ کودانکولم نیوکلیئر پاور پلانٹ کی مجموعی حفاظت اور ملکی سلامتی کے لیے ایک بہت بڑا اور انتہائی خطرناک ترین خطرہ ثابت ہو سکتا ہے۔

دفاعی اور سائبر سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق، یہ واقعہ بھارت میں سائبر سیکیورٹی کے انتہائی ناقص اور کمزور انتظامات کا ایک اور بڑا ثبوت ہے۔ یہ حادثہ واضح کرتا ہے کہ سیکیورٹی کے بڑے دعوے کرنے کے باوجود بھارت کی بڑی بڑی نجی اور سرکاری کمپنیاں اس نوعیت کے جدید اور منظم سائبر حملوں سے نمٹنے کی بالکل صلاحیت نہیں رکھتیں، جس کا خمیازہ ان کی انتہائی حساس ترین دفاعی و جوہری تنصیبات کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔